1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلم مالک پر پابندی:’قانونی قدم اٹھاؤں گا‘عاشرعظیم

حکومتِ پاکستان نے آٹھ اپریل کو ریلیز ہونے والی فلم مالک پرموشن پکچرز آرڈیننس 1979ء کی شق 9 کے تحت پابندی لگا دی ہے اور اس فلم کے لئے جاری کیا جانے والا سینسر سرٹیفیکیٹ واپس لے لیا گیا ہے۔


پابندی کی خبر آج ملک کے بیشتر اخباروں میں شہ سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے،جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ پابندی زیرِ بحث ہے۔ سینسر بورڈ کے چیئرمین مبشرحسن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’ بورڈ کوفلم کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ فلم نے یہ تاثر دیا کہ ملک میں کوئی قانون نہیں، لاقانونیت پر اکسایا گیا۔ ایک لسانی اکائی کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ، جہادی عناصر کو ہیرو بنایا گیا اور سیاست دانوں کی شخصیات کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ پابندی کا اطلاق اسلام آباد اور ملک بھر کے گیریژن علاقوں میں ہوگا۔‘‘
پابندی نے فلم بینوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے شاپنگ سینڑسینٹ ٹورس میں قائم سینما گھرمیں آنے والے خالد اعوان نے کہا، ’’ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک جمہوری دور میں فلم پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اگر فلم میں سیاستدانوں کے کرپشن کو دکھایا گیا ہے تو حکومت کیا چاہتی ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ‘‘
تیس سالہ ملک نعمان بشیر نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ میری سمجھ سے باہر ہے کہ بھارتی فلمیں، جس میں پاکستان کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے، انہیں دکھایا جا رہا ہے لیکن پاکستانی فلموں پر پابندی لگائی جارہی ہے۔‘‘
قیام پاکستان سے لے کر 1980ء کی دہائی تک پاکستانی فلم انڈسڑی نے بہترین فلمیں بنائیں۔ کئی ایک فلموں کی بھارت نے نقالی بھی کی جیسا کہ دہلیز، قربانی، آئینہ، مولاجٹ، مہربانی وغیرہ وغیرہ۔

Pakistan Kino in Lahore

لاہور کا ایک سنیما گھر

نوے کی دہائی میں فلم انڈسٹری پرزوال شروع ہوا، جو بہت حد تک اب بھی برقرار ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں فلم انڈسٹری نے ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ بول اور وار جیسی فلموں کو شائقین میں بہت پذیرائی ملی ۔
معروف ڈرامہ نگار یونس بٹ نے DW سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’جب بھی آپ کوئی فلم، ڈرامہ یا ناول لکھتے ہیں، اس سے کوئی نہ کوئی ناراض ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کا فیصلہ لوگوں نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ فلم یا ڈرامہ اچھا ہے یا نہیں۔ پاکستان میں ایک فلم بنانے کے لئے چار سے آٹھ کروڑ روپیہ لگتا ہے۔ جو لوگ سماجی و سیاسی موضوعات پر فلم بنانے کاسوچ رہے ہوں گے، اب وہ پیسہ نہیں لگائیں گے۔ فلم انڈسڑی پہلے ہی بحران کا شکار ہے، حکومت نے پابندی لگا کر فلم میں پیسہ لگانے والوں کو منفی پیغام دیا ہے۔‘‘
فلم پر پابندی سے فنکار بھی نالاں نظر آتے ہیں۔ معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے اپنی اس ناراضگی کا اظہار یوں کیا،’’ حکومت کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ فلم پر پابندی لگائے۔ اگر فلم اچھی نہیں ہوگی تو لوگ نہیں دیکھیں گے۔ بد قسمتی سے ہمارے سیاست دانوں میں آج بھی جاگیردارانہ و آمرانہ سوچ ہے۔ یہ ایک آمرانہ قدم ہے۔ سیاست دانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ آمریت نے ادب و ثقافت کو کتنا برباد کیا ہے۔ جب میں نے فلم انتہا بنائی تو مجھے بھی یہ کہا گیا کہ آپ یہ سین نکال دیں یا وہ نکال دیں اور یہ سین میری فلم کے انتہائی اہم سینز تھے۔ اس طرح تو آپ فلمسازوں کو بھگا رہے ہیں۔ فلم انڈسڑی ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کر رہی ہے، اسے تباہ نہ کریں۔‘‘

Pakistan Lahore German Film Festival

معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئےفلم مالک پر پابندی عائد کرنے کے عمل پر سخت ناراضگی کا اظہار یوں کیا


فلمساز عاشر عظیم نے DW کو بتایا،’’ میں ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔ تمام سینسر بورڈز نے تین ہفتے پہلے اس فلم کو دیکھا تھا اور کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ فلم پر پابندی وزارت اطلاعات و نشریات نے لگائی ہے۔ میں ذرائع ابلاغ پر آنا نہیں چاہ رہا تھا کیونکہ اس سے وفاقی حکومت کے نقطہ نظر میں مزید سختی آسکتی ہے۔ میں نے دوستوں سے پیسے ادھار لے کر بارہ سال کی محنت کے بعد یہ فلم بنائی۔ اس فلم پر اب پورے ملک میں پابندی ہے اور یہ پابندی صرف چند علاقوں تک محدود نہیں ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ مالی طور پر مجھے کتنا نقصان ہوگا کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ پابندی کتنی دیر رہے گی۔ میں اب قانونی قدم اٹھاؤں گا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا،’’ فلم کا اسکرپٹ کچھ اسطرح کا ہے کہ ہمیں کچھ ملٹری ہارڈ ویئر چاہیے تھے، جس کے لئے آئی ایس پی آر کی طرف سے ہماری مدد کی گئی۔ پوری دنیا میں فوجیں فلمیں بنانے میں مدد کرتی ہیں، ہم نے پھر بھی بہت چھوٹے پیمانے پر مدد لی ہے۔ جولوگ میری فلم پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلم دیکھی ہی نہیں ہے۔‘‘

عبدالستار اسلام آباد


DW.COM