1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فلم قربان، کرینا کی کمر اور ساڑھی

شدت پسند ہندو تنظیم شیوسینا کے کارکنوں کی جانب سے ممبئی میں بالی وُڈ ایکٹرس کرینا کپور اور سیف علی خان کی نئی فلم 'قربان' کے پوسٹر پھاڑے جانے پر کرینا کا ردِ عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔

default

کرینا کپور

ان اشتہارات میں کرینا کی برہنہ کمر واضح ہے، جسے قابل اعتراض قرار دیا گیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شیو سینا کا مزید کہنا ہے کہ ایسے ’غیراخلاقی‘ اشتہار سے بچوں کے ذہن آلودہ ہوں گے۔ اس جماعت کے ایک رہنما انیل پراب نے بھی تصدیق کی ہے کہ ممبئی کے علاقے جوہو سرکل میں فلم 'قربان' کے پوسٹر پھاڑے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلے عام ایسے اشتہارات لگانا قابل قبول نہیں۔

کرینا نے فلم کے پوسٹر کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے:’’اشتہار میں میری کمر برہنہ ہے جبکہ سیف کے سینے پر زخم کا نشان ہے، یہ منظر فلم کے مرکزی خیال کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔‘‘

Kareena Kapoor und Saif Ali Khan

کرینا کپور اور سیف علی خان ساتھ ساتھ

انہوں نے کہا کہ یہ منظر پیار، جذبے اور تشدد کا مجموعہ ہے اور اتنے پہلوؤں کو ایک ہی تصویر میں دکھانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ کرینا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پوسٹر میں بے ہودگی کا کوئی عنصر موجود نہیں ہے۔

شیو سینا کے کارکنوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جلد ہی کرینا کے گھر جائیں گے اور انہیں تحفے میں ایک ساڑھی پیش کریں گے۔ کرینا نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ ساڑھی ’معیاری اور خوبصورت‘ ہونی چاہیے۔

ھدایت کار کرن جوہر کی فلم ’قربان‘ بیس نومبر کو دُنیا بھر میں ریلیز کی جا رہی ہے۔ اس میں کرینا کپور اور سیف علی خان پروفیسرز کا کردار نبھا رہے ہیں، جو شادی کے بعد امریکہ میں رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ تب کرینا کو پتہ چلتا ہے کہ سیف علی خان دراصل ایک دہشت گرد ہے، جو ہوائی جہاز ہائی جیک کرنے اور اسے بم سے اڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فلم کو نیم برہنہ مناظر کی وجہ سے خاصی شہرت مل رہی ہے اور ساتھ ہی یہ تنازعہ کا شکار بھی ہورہی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر

DW.COM