1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فلموں میں روایتی پیشے کا استعمال

جرمن فلمی صنعت کی تاریخ میں 2009ء کامیاب ترین سال ثابت ہوا۔ اس سال2008ء کے مقابلے میں 15 ملین زیادہ لوگوں نے سنیما گھروں کا رخ کیا۔ ماہرین اس کی ایک وجہ ’اوتار‘ اور ’آئس ایج‘ جیسی تھری ڈی فلموں کو قرار دیتے ہیں۔

default

انگو کوپمن، بائیں جانب

جرمن فلمی صنعت کی تاریخ میں 2009ء کامیاب ترین سال ثابت ہوا۔ اس سال2008ء کے مقابلے میں 15 ملین زیادہ لوگوں نے سنیما گھروں کا رخ کیا۔ ماہرین اس کی ایک وجہ ’اوتار‘ اور ’آئس ایج‘ جیسی تھری ڈی فلموں کو قرار دیتے ہیں۔ اس کامیابی میں تکنیکی شعبے میں ہونے والے ترقی کا بھی ہاتھ ہے اور روایتی پیشے بھی اس میں شریک ہیں۔ مثال کے طور پر انگو کوپمن گزشتہ تیس برسوں سے فلموں اور ٹیلی وژن کے لئے جانوروں کی شکل کے کھلونے بناتے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے ان کھلونوں کی صرف جرمنی میں ہی مانگ نہیں ہے بلکہ ہالی وڈ کی کئی فلموں میں بھی ان کے ہاتھ سے بنائے ہوئے یہ جانور اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔

انگو کوپمن کو بچپن سے ہی کھلونے بنانے میں دلچسپی تھی اور انہوں نے دس سال کی عمر سے اپنے اس شوق کو عملی شکل دینا شروع کی۔ اپنے لڑکپن کے دور میں انہیں ایک مردہ پرندہ ملا ۔ وہ اس کا ایک پر کاٹ کر اپنے ساتھ گھر لے گئے اور وہیں سے ان کی دست کاری کی ابتداء ہوئی۔ انگو کوپمن کا فن اتنی تیزی سے مقبول ہوا اور اس نے لوگوں کو اس طرح سے متاثر کیا کہ انہیں کئی مرتبہ یورپی ماسٹر کا انعام بھی دیا جا چکا ہے اور اس طرح فلم انڈسٹری نے اس فنکار کو موقع دیا۔

Filmszene Avatar

اوتار جرمن سنیما کے لئے اچھی رہی

انگوکوپمن کہتے ہیں کہ فلموں کے لئے جانوروں کی شکل کےکھلونے بنانا کافی محنت کا کام ہے۔ کیونکہ فلموں میں کپڑے سے تیار کئے گئے جانور بالکل اصلی دکھنے چاہیں۔ بھونکتے ہوئے کتے، چلتی ہو بلیاں یا پھر بھاگتے ہوئے ہرن بنانے میں کافی مشکل ہوتی ہے اور پھر انہیں تکنیکی اعتبار سے بھی بالکل موزوں ہونا چاہئے۔ انگوکوپمن بتاتے ہیں کہ ان کے فن سے متاثر ہو کر ہالی وڈ کے پروڈیوسر کوئتن ترانتینو نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے ان کی فلم انگلوریس باسٹرڈ کے لئے کبوتر بنائے تھے۔ اسی طرح ایک جیمز بانڈ فلم میں ان کی بنائی ہوئی بلی کوبھی شامل کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جرمن اور امریکی فلمی صنعت میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ ہالی وڈ کام کا زیادہ معاوضہ ادا کرتا ہے اور طریقہ کار بھی آسان ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کوپمن کا کہنا تھا فلمی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی پر بھروسہ بڑھتا جا رہا ہے لیکن اس کا ان کے فن پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ انہیں آج بھی پہلے ہی کی طرح آرڈر مل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں جانوروں سے پیار ہے اسی لئے وہ اپنے پیشے اور فن سے بہت مطمئن ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM