1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطین کے اقوام متحدہ کا رکن بننے کی راہ میں حائل مشکلات

فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کے علاوہ کسی دوسری حیثیت کو قبول نہیں کرے گا۔ المالکی کے مطابق عالمی ادارے میں ایک مبصر ریاست کی پوزیشن انہیں قبول نہیں ہے۔

Palestinian President Mahmoud Abbas, left, gives a letter requesting recognition of Palestine as a state to Secretary-General Ban Ki-moon during the 66th session of the General Assembly at United Nations headquarters Friday, Sept. 23, 2011. (Foto:Seth Wenig/AP/dapd)

محمود عباس اور بان کی مون

ریاض المالکی کا مزید کہنا تھا کہ پوری فلسطینی قوم کی بے پناہ قربانیوں اور کاوشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی ممبر ریاست کا درجہ دیا جائے اور وہ اس کے مستحق ہیں۔ فلسطینی وزیر خارجہ نے اس سے کمتر درجہ قبول کرنے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ رملہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مبصر ریاست کا درجہ اگر حاصل کرنا ہوتا تو یہ بہت پہلے ممکن ہو جاتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فلسطیی قیادت اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کے حصول میں ناکامی کے بعد مبصر ریاست کا درجہ بھی قبول نہیں کرتی تو وہ تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے۔ تاہم سفارتکاروں کا خیال ہے کہ مالکی کے بیانات غالباً فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ ممتاز فلسطینی سیاسی تجزیہ کار جارج غیاث امان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیادت کی جانب سے اس قسم کے بیانات سیاسی ہیں اور اس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کو باور کرانا ہے کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کریں۔

فلسطین کی جانب سے اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت کی کوشش کو امریکی لابی کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اسے امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے مختلف قسم کی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی کانگریس نے فلسطین کو دی جانے والی دو سو ملین ڈالرز کی اقتصادی امداد منجمد کر دی ہے۔

Mahmud Abbas FLASH-GALERIE

محمود عباس جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران

تاہم امریکی قانون ساز ایل انا راس لہٹائنن (Ileana Ros-Lehtinen) کے ترجمان کے مطابق امریکہ  نے فلسطینی سکیورٹی فورسز کی استعداد کاربڑھانے کے لیے دی جانے والی 150ملین ڈالرز کی امداد پر سے پابندی اٹھا لی ہے۔

سفارتکاروں کے مطابق فلسطین کو روس، چین، برازیل، بھارت، لبنان اور جنوبی افریقہ کی حمایت حاصل ہے جبکہ امریکہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ سکیورٹی کونسل کے اراکین برطانیہ ، فرانس اور کولمبیا نے ووٹنگ کی صورت میں عدم شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین کو گیبون اور نائجیریا کی حمایت بھی ممکنہ طورپرحاصل ہو سکتی ہے تاہم جرمنی اور پرتگال کی جانب سے حمایت کا امکان کم ہے۔ بوسنیا بھی ممکنہ طور پر فلسطین کی حمایت سے دور رہ سکتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کے لیے رواں برس تیئس ستمبر کو درخواست دی تھی اور اب سکیورٹی کونسل اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم امریکہ نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اگر پندرہ رکنی باڈی نے اس سلسلے میں رائے شماری کرائی تو وہ اپنا ویٹو کا حق استعمال کر کے اس قرارداد کو ختم کردے گا۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس