فلسطین میں انتخابات کرانے پر اتفاق | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطین میں انتخابات کرانے پر اتفاق

فلسطینی تنظیموں کے مابین  2018ء کے اختتام پر انتخابات کرانے کے معاملے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس دوران فتح اور حماس کے درمیان ہونے والے مصالحتی معاہدے کی پذیرائی بھی کی گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق فلسطین کی تیرہ بڑی جماعتوں کا بند کمرے میں ایک دو روزہ اجلاس ہوا، جس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن سے کہا گیا کہ وہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری شروع کر دے۔ اس اعلامیے میں صدر محمود عباس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تمام فریقین سے بات چیت کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ طے کریں۔

حماس دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں برقرار رہے، یورپی عدالت

حماس غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے پر راضی

فلسطین کی یونٹی حکومت اسرائیل کو تسلیم اور حماس کو غیر مسلح کرے، امریکا

حماس اور فتح کے مابین اکتوبر میں مصالحتی معاہدہ طے پانے کے بعد فلسطین میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ تقریباً گزشتہ دس برسوں سے یہ تنظیمیں ایک دوسرے کی شدید مخالف سمجھی جاتی تھیں۔ اس معاہدے کی رو سے غزہ اور رفح پر فلسطینی انتظامیہ کی عمل داری قائم کی جائے گی۔ مصر کی کوششوں سے طے پانے والے اس معاہدے پر یکم دسمبر سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

اس اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ محمود عباس کی فتح پارٹی اور حماس کے مابین یہ معاہدے تقسیم کو ختم کرنے کے لیے عملی قدم ہے، ’’یہ حکومتی اقدامات کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس طرح اب حکومت اپنی ذمہ داریوں کو باآسانی سے پوری کر سکے گی۔‘‘

حماس کی جانب سے 2007ء میں غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد سے فلسطین میں کوئی انتخابات نہیں ہوئے۔

 

ویڈیو دیکھیے 02:39

غزہ میں بجلی کا بحران، شدید ہوتا ہوا

DW.COM

Audios and videos on the topic