1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی کو زندہ جلانے والا پاگل نہیں، سزا ملے گی، اسرائیلی عدالت

ایک اسرائیلی عدالت نے منگل کے روز ایک فلسطینی لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنانے اور پھر زندہ جلا دینے والے یہودی ملزم کو ہوش مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم اپنے اقدام کے لیے جواب دہ ہے اور اسے مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔

سن 2014ء میں 31 سالہ اسرائیلی آبادکار یوسف ہائم نے ایک مشتعل گروہ کی قیادت کی تھی، جس نے ایک نوجوان فلسطینی لڑکے کو پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور پھر اسے زندہ جلا دیا تھا۔ اس یہودی کو سکیورٹی فورسز نے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا تھا، تاہم ہائم کے وکیل نے اپنے مؤکل کو سزا سنائے جانے سےکچھ دیر قبل عدالت میں دستاویزات جمع کرائی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ اس کا مؤکل ذہنی مسائل کا شکار ہے اور اسے اس جرم میں سزا نہیں دی جا سکتی۔

تاہم منگل کے روز سامنے آنے والے عدالتی فیصلے کے بعد اب یوسف ہائم کو سزا سنائے جانے کی راہ ہم وار ہو گئی ہے۔

Israel Gerichtsprozess Yosef Haim Ben-David Mord an palästinensischen Teenager

سزا سنائے جانے سے قبل ہائم کے وکیل نے اپنی موکل کی ذہنی صحت کو نادرست قرار دیتے ہوئے اپیل دائر کر دی تھی

اسرائیلی وزارت انصاف کی جانب سے اس عدالتی فیصلے پر ردعمل میں کہا گیا ہے، ’’عدالت کو معلوم ہوا کہ جرم کے وقت ملزم ذہنی مسائل کا شکار نہیں تھا، اس کا ذہنی توازن درست تھا اور وہ اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے، اس لیے وہ اپنے اقدام کا ذمہ دار ہے۔ کسی ملزم کو جرم سے روکنے کے لیے جو ادراک درکار ہوتا ہے، ملزم اس ادراک کا حامل تھا۔‘‘

اس سال فروری میں اسی جرم میں معاونت پر ایک اسرائیلی عدالت نے دو نوجوان یہودی شہریوں کو عمر قید اور 21 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ بات واضح رہے کہ یہ واقع سن 2014ء کی غزہ جنگ سے قبل پیش آیا تھا۔ ان دونوں ملزمان کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ جرم کے وقت یہ دونوں نابالغ تھے۔

سن 2014ء میں پیش آنے والے اس واقعے میں مشتعل یہودیوں کے ایک گروہ نے مشرقی یروشلم میں ایک 16 سالہ فلسطینی نوجوان محمد ابوخدیر کو سڑک پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور پھر زندہ جلا ڈالا تھا۔

اس واقعے کو مغربی کنارے کے قریب واقع شہر عبرون سے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور قتل کا ردعمل قرار دیا گیا تھا۔