1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فلسطینی مہاجر برطانیہ کے مہنگے ترین اسکول میں

سفید یونیفارم میں ملبوس عمار مصطفیٰ برطانیہ کے باوقار ترین اسکول کے ایک لان میں بیٹھا ہے۔ یہ جگہ شام اور لبنان کے فلسطینی ان کیمپوں سے میلوں دور ہے جہاں سے وہ یہاں تک پہنچا ہے۔

اٹھار سالہ خوش گفتار اور شرمیلے مصطفیٰ کو برطانیہ کے ایٹون کالج نے کئی لاکھ مہاجرین بچوں میں سے چن کر داخلہ دیا ہے۔ یہ وہ کالج ہے جہاں سے برطانیہ کے کئی وزارئے اعطم، معروف کاروباری شخصیات اور شاہی خاندان کے افراد فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’’زندگی تبدیل کر دینے والا موقع ہے۔‘‘

اسے اس کالج میں داخلہ ایک فلاحی ادارے کی اسکالرشپ پر ملا ہے، جو کہ صرف انتہائی ہونہار اور قابل طلبا کو ہی دی جاتی ہے۔

مصطفیٰ کا بہرحال کہنا ہےکہ شام کے یرمک فلسطینی کیمپ میں، جہاں سے اس کا خاندان سن دو ہزار بارہ میں فرار ہوا تھا، اتنی بری جگہ بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ کیمپ اپنی خستہ حالی، بے شمار افراد کا ایک چھوٹی سی جگہ پر جمع ہونا، ڈھانچے نما بچوں اور قیامت خیز مناظر کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

مصطفیٰ لیبیا میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا خاندان وہاں سے یرموک انیس سو نناوے میں منتقل ہوا تھا۔ منتقلی کی وجہ والد کی بے روزگاری تھی۔ یرمک میں وہ الیکٹریشن کا کام کر سکتا تھا۔

''در حقیقت یرمک میں میرا اچھا وقت گزرا۔ جب ہم کیمپ کہتے ہیں تو خیموں کا خیال آتا ہے، تاہم یرمک میں خیمے تو نہیں تھے۔‘‘

مصطفیٰ مزید کہتا ہے: ’’یرمک میں اچھی بات یہ تھی کہ وہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہاں آپ رات گئے بھی شاپنگ کر سکتے ہیں۔‘‘

مصطفیٰ اب وہ سب پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ ایٹون کالج میں طبیعات کے پروفیسر پیٹر مان گزشتہ دو برسوں سے لبنان جا رہے ہیں۔ وہاں وہ ان قابل بچوں کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے کالج میں پڑھ سکیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’چالیس میں سے چار ہی ایسے بچے ہوتے ہیں جن سے ہم مطمئن ہوتے ہیں۔ عمار بہت شرمیلا بچہ تھا تاہم تعلیمی قابلیت میں وہ بے نظیر تھا۔ وہ دوسروں سے مختلف تھا۔‘‘ پروفیسر کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کے سوا کوئی دوسرا بچہ انٹیریئر ڈیزائن کی تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اس کے بعد جنوبی لبنان میں مصطفیٰ کا متحان لیا گیا اور اس کو ایٹون کالج میں پڑھنے کے لیے اسکالرشپ دی گئی۔ اس وقت اس کی عمر سولہ برس تھی۔

مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ ابتداء میں وہ خاصا پریشان تھا۔ ’’تاہم میری ہمیشہ سے یورپ کو دیکھنے کی خواہش تھی، تاکہ میں وہاں کی زبان اور ثقافت کو قریب سے سمجھ سکوں۔ میرے والدین میری کامیابی سے بہت خوش ہیں، تاہم وہ اداس بھی ہیں کیوں کہ مجھے ان کو چھوڑ کر برطانیہ آنا پڑا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ میں اپنے اہلا خانہ سے جدا ہوں۔‘‘