1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی معاملے پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس پیر کے روز

محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران عالمی ادارے سے اپیل کی ہے کہ فلسطین کو مکمل ریاست کا درجہ دیتے ہوئے اسے ممبر شپ دی جائے۔ اس مناسبت سے پیر کے روز سکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

default

محمود عباس اور بان کی مون

 اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے لبنان سے تعلق رکھنے والے صدر نواف سلام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر کونسل میں بحث پیر کے روز ہو گی۔ بحث کا آغاز عالمی وقت کے مطابق شام سات بجے ہو گا۔ سکیورٹی کونسل میں فلسطین کی رکنیت کی درخواست کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا یقینی امکان ہے۔ اس کا اعلان امریکی صدر پہلے ہی کر چکے ہیں۔ سکیورٹی کونسل سے منظوری کے بعد ہی جنرل اسمبلی رکنیت کے معاملے پر ووٹنگ کے عمل کا آغاز کرے گی۔ امریکہ اس مناسبت سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاملات کو طے کرنا اہم خیال کرتا ہے۔

NO FLASH Mahmud Abbas

محمود عباس فلسطین کی رکنیت کی درخواست جنرل اسمبلی کو دکھاتے ہوئے

اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو وہ تاریخی دستاویز پیش کی، جس میں انہوں نے عالمی ادارے سے درخواست کی کہ فلسطین کو بطور ایک آزاد ریاست مکمل رکنیت دی جائے۔ جنرل اسمبلی میں موجود اقوام عالم کے لیڈروں اور سفارت کاروں نے دیر تک تالیاں اور ڈیسک بجا کر عباس کے دستاویز فراہم کرنے کے عمل کا خیر مقدم کیا۔ 

جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے فلسطینی لیڈر محمود عباس نے واضح کیا کہ وہ اپنے اس قدم سے عالمی سطح پر اسرائیل کو قطعاً تنہا کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سن 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فوری طور پر بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عباس نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر فوری طور پر روکنے کو بھی تجویز کیا۔

NO FLASH UN Anerkennung Palestina Mahmoud Abbas

عباس فلسطین کی بطور رکنیت کی درخواست بان کی مون کو پیش کرتے ہوئے

ادھر فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں محمود عباس کی جانب سے رکنیت کے حصول کی درخواست پیش کرنے کا پرزور خیر مقدم کیا گیا۔ تقریر کے دوران اور بعد میں فلسطینی انتہائی جذباتی دکھائی دے رہے تھے۔ شہر کے مرکز میں ٹیلی وژن اسکرین پر عوام کی بڑی تعداد نے محمود عباس کی تقریر کو دیکھا۔ مبصرین کے مطابق سن 2004 میں یاسر عرفات کے انتقال کے بعد پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں سے باہر نکلے ہیں۔

موجودہ فلسطینی علاقے کے سیاسی دارالحکومت رملہ میں بے شمار گاڑیوں پر لوگ فلسطین کا پرچم لہراتے سڑکوں پر گھومتے رہے۔ اس تقریر کے موقع پر لوگ محمود عباس کی حمایت پر راضی دکھائی دے رہے تھے۔ رملہ کے علاقے مقتدیٰ میں محمود عباس کے صدارتی دفتر کی عمارت کی دیواروں پر ان  125 ملکوں کے جھنڈے لہرائے گئے تھے، جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کر رکھا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت:  عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس