1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر امریکہ کو تشویش

امریکی حکومت نے اسرائیلی حکومت اور فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

default

رہا ہونے والے اسرائیلی سارجنٹ گیلات شالیت

حال ہی میں اسرائیل اور عسکری تنظیم حماس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ پانچ برسوں سے حماس کے زیر حراست اسرائیلی سارجنٹ گیلات شالیت کی رہائی کے بدلے اسرائیلی حکومت نے چار سو ستر فلسطینی قیدیوں کا رہا کر دیا ہے جب کہ مزید پانچ سو پچاس قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔ گیلات شالیت وطن واپس پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت اور حماس دونوں ہی نے اس ’ڈیل‘ کو اپنی اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔

تاہم امریکہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے ناخوش ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر امریکہ کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’ہم نے بعض قیدیوں کی تفصیلات دیکھی ہیں اور ہم نے اپنی رائے سے اسرائیلی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔‘‘ ٹونر کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ قیدیوں کی رہائی اس کے لیے خطرات میں اضافہ کرے گی۔ ٹونر کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسے لوگوں کی رہائی کے خلاف ہے، جنہیں امریکیوں کے خلاف جرائم میں سزا ہو چکی ہو۔ مارک ٹونر نے تاہم کہا کہ قیدیوں کی رہائی اسرائیلی حکومت کا ایک ’خود مختار فیصلہ‘ ہے۔

Weiße Haus Pressesprecher Jay Carney Bild Osama Bin Laden

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی

واضح رہے کہ امریکی حکومت حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے۔ حماس کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی حکومت نے تین شرائط رکھی ہیں۔ ایک یہ کہ حماس اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہتھیار ڈالے اور تیسری امریکی شرط ہے کہ حماس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ماضی میں ہونے والے معاہدوں کو تسلیم کرے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے شالیت کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ’’ہمیں خوشی ہے کہ گیلات شالیت اپنے خاندان سے جا ملے ہیں۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM