1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی علاقے غزہ میں انسانی صورت حال

مشرق وسطیٰ میں فلسطین وہ خطہ ہے جو تاریخ کے جبر کا شکار ہے۔اگر اُنیس سو اڑتالیس میں بیلفور ڈیکلریشن پر مکمل طور پر عمل دراآمد ہو جاتا تو بعض تاریخ دانوں کے خیال میں اسرائیلی ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست معرض وجود میں آ سکتی تھی۔اور اگر ایسا ہوجاتا تو بہت سالوںسے مشکلات کا شکار فلسطینی امکاناً بہتر زندگی بسر کر رہے ہوتے۔

Wailing Palestinian people

Wailing Palestinian people

مشرق وسطیٰ میں فلسطین وہ خطہ ہے جو تاریخ کے جبر کا شکار ہے۔ ا گر اُنیس سو اڑتالیس میں بیلفور ڈیکلریشن پر مکمل طور پر عمل دراآمد ہو جاتا تو بعض تاریخ دانوں کے خیال میں اسرائیلی ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست معرض وجود میں آ سکتی تھی اور اگر ایسا ہوجاتا تو بہت سالوںسے مشکلات کا شکار فلسطینی امکاناً بہتر زندگی بسر کر رہے ہوتے۔

گزشتہ ہفتے کی غزہ پٹی پر اسرائیلی کاروائی کے بعد غزہ میں رہنے والوں کی اکثریت انتہائی پریشان کُن حالات کا شکار ہیں اور اسی فی صد آبادی کا انحصارانسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ملنے والی اشیاءپرہے۔ تقریباًگیارہ لاکھ کی آبادی میں ہزاروں بے روزگار ہیں۔

موجودہ صورت حال پر کئی عالمی شہرت کی غیر سرکاری تنظیموں نے انسانی برادری اور عالمی اداروں کی توجہ طلب کی ہے اور اُن کو بتایا ہے کہ اِس زمینی علاقے میں سن اُانیس سو سڑسٹھ کے بعد انسانی حیات انتہائی نچلی سطح پر جا پہنچی ہے اور اُن کے خیال میں ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو غزہ میں انسانی حیات تنگی کے شکنجے میں کستے ہوئے تباہی کی کھائی میں گر جائے گی۔ ان غیر سرکاری تنظیموں میں Amnesty International, Save the Children, Cafod, Care International اور Christian Aid شامل ہیں۔ اِن ادروں نے دونوں اطراف کے ارباب اقتدار سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر سے کام لیتے ہوئے عام شہریوں کی زندگی کو موت کا تر نوالہ بننے سے بچائیں۔ یہ ادارے اسرائیلی کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی کوغیر قانونی خیال کرتے ہیں کیونکہ اِس کی وجہ سے تعینات فوجی جب اپنے بے بہا اختیارات کو استعمال کرتے ہیںتو انسانی ضرورت کے سامان کی ترسیل میں بہت زیادہ مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر کرنے کے عمل میں تسلسل کے باعث اسرائیلی اِس ناکہ بندی کو جائز سمجھتے ہوئے موجودہ صورت حال کا ذمہ دار انتہا پسند تنظیم حماس کو قرار دیتا ہے۔ اِس پر مزید یہ کہ اسرائیلی نے مزیدیہ بھی کہا ہے کہ اگر راکٹ فائر کیئے جانے کا عمل جاری رہا تو وہ مزید بڑی کاروائی کا آغاز کر سکتا ہے۔اِس مناسبت سے اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک کہہ چکے ہیںکہ وہ وہ مزید کاروائی حالات کودیکھ کر ہی کریں گے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی وزیر خارجہ سپی لیونی بھی کہہ چکی ہیں کہ اگر ضرورت ہوئی تو اسرائیل غزہ پی پر دوبارہ قبضہ کر لے گا۔

اسرائیل نے اِس علاقے کو سن دو ہزار پانچ میں خالی ضرور کیا تھامگر اس کی ہوائی حدود، ہوائی اڈے، ساحلی علاقے اور نئی سرحدوں کا کنٹرول اپنے قبضے میںہی رکھا تھا۔