فلسطینی بچےکی ہلاکت،مذاق اُڑانے والے یہودیوں کا ویڈیو کلپ | حالات حاضرہ | DW | 24.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی بچےکی ہلاکت،مذاق اُڑانے والے یہودیوں کا ویڈیو کلپ

ایک فلسطینی بچے کی آتش زنی کے واقعے میں ہلاکت پر انتہاپسند یہودیوں کی طرف سے تمسخر اڑانے کی ویڈیو فوٹیج کے خلاف خود اسرائیل میں بھی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی طرف سے بھی اس فوٹیج کے لیک ہونے پر شدید تشویش اور پریشانی کا اظہار کیا جا رہا ہے انہیں خدشہ ہے کہ یہ فوٹیج اس فلسطینی بچے کی ہلاکت میں مبینہ طور پر شریک عناصر کے بارے میں سخت تفتیشی کارروائی کا جواز بن جائے گی۔

بُدھ کو رات گئے اسرائیلی ٹیلی وژن چینل 10 پر شائع ہونے والے اس ویڈیو کلپ میں وہ سین دیکھا گیا جس میں ایک شادی کی تقریب میں 18 ماہ کے فلسطینی بچے علی دوابشہ کی تصویر اُٹھائے متعصب اسرائیلی ناچتے گاتے دکھائی دیے جبکہ چند دیگر اسرائیلی ہاتھوں میں بندوقیں، چھوریاں اور پٹرول بم لیے خوشی مناتے دکھائی دے رہے تھے۔

Israel Palästina abgebrantes Haus der Familie Dawabsheh in Duma Westjordanland Protest

مغربی اُردن کے گاؤں دُوما میں فلسطینی بچے کے گھر کو نذر آتش کیے جانے کے بعد ہونے والا مظاہرہ

18 ماہ کا فلسطینی بچہ اور اُس کے والدین جولائی میں مغربی اُردن کے گاؤں دُوما میں اُن کے گھر کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اُس واقعے کو اسرائیلی حکام نے ’’یہودی دہشت گردی ‘‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی اہلکاروں نے اُس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ تب سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین سڑکوں پر ہونے والے تصادم اور تشدد میں اتنا اضافہ دیکھنے میں آیا، جتنا کہ گزشتہ کئی برسوں میں دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

جمعرات کو ایک فلسطینی نے غرب اُردن میں یہودی بستی،’’آیریل‘‘ میں دو اسرائیلی سکیورٹی گارڈز کو چُھرا گھونپ کر زخمی کر دیا تھا اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس کے سبب اسرائیلی پولیس نے اس فلسطینی حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جمعرات ہی کو غرب اُردن کے مقبوضہ علاقے سے مختلف واقعات میں اسرائیلی پولیس کی طرف سے تین فلسطینی حملہ آوروں کی ہلاکت کی خبر بھی موصول ہوئی۔

Gaza Beerdigung Trauer Kind Malek Shaat

غزہ پٹی میں آئے دن معصوم بچوں کی موت واقع ہوتی ہے

بُدھ کی شام اسرائیلی چینل پر نشر ہونے والے ویڈیو کلپ جس میں انتہا پسند یہودیوں کو 18 ماہ کے فلسطینی بچے کی ہلاکت پر خوشی اور اُس کی تصویر کا مذاق اڑاتے دیکھا گیا، نے اسرائیلی حکومت کو بھی مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔ اس ویڈیو کلپ کے نشر ہونے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان دیتے ہو کہا،’’ ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیو کلپ میں صدمے کا باعث بننے والی تصویر اُن اسرائیلوں کی شکلوں کو بے نقاب کرنے کا سبب بنی ہے جو اسرائیلی معاشرے اور ملکی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں‘‘۔

نیتن یاہو نے مزید کہا،’’ اس تصویر نے اس امر کی ضرورت کو اور نمایاں کر دیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی کا مضبوط ہونا اسرائیل اور ہم سب کی سلامتی کے لیے کتنا ضروری ہے‘‘۔

DW.COM