1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے لیے اقوام متحدہ میں درخواست

فلسطینیوں کی طرف سے ایک علیحدہ ریاست تسلیم کرائے جانے کے لیے اقوام متحدہ میں درخواست آج پیش کی جا رہی ہے۔ نتیجہ کچھ بھی نکلے مگر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو اپنے عوام میں مقبولیت ضرور حاصل ہوئی ہے۔

default

فلسطینیوں کی طرف سے ایک  آزاد ریاست کا معاملہ رکتے، چلتے مذاکرات کے سبب بظاہر پس پشت پڑتا دکھائی دے رہا تھا، مگر اب فلسطینی عوام کو یہ تسلی ضرور ہوئی ہے کہ یہ مسئلہ واپس عالمی اسٹیج پر اٹھایا جا رہا ہے۔

گوکہ امریکہ کی طرف سے ایسی کسی کوشش کو سلامتی کونسل میں ویٹو کرنے کا واضح اعلان سامنے آ چکا ہے مگر فلسطینی ریاست تسلیم کیے جانے کے باوجود بھی فلسطینیوں کو جلد آزادی ملتی دکھائی نہیں دیتی۔  تمام تر غیر یقینی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے خطرے کے باوجود محمود عباس کے قریبی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر گزشتہ کئی برس سے چھایا تعطل دور کرنے کے لیے ایسے ہی کسی دلیرانہ اقدام کی ضرورت تھی۔

مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے امریکی کوششوں سے ہونے والے اسرائیل فلسطیی مذاکرات سے ہی لمبے عرصے سے جڑے رہنے کی بدولت نہ صرف محمود عباس کو داخلی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے بلکہ عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اکثر تعطل کا شکار رہنے والے ان مذاکرات کی معطلی کی ذمہ داری اسرائیل اور فلسطینی ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے کے علاقے پر قبضہ جاری ہے۔

Demonstrationen im Westjordanland

عرب ملکوں میں شروع ہونے والی جمہوری تحریکوں کی لہر کی بدولت بھی جسے ’عرب اسپرنگ‘ کا نام دیا گیا ہے، فلسطینی رہنماؤں کے لیے اس مسئلے سے متعلق صورتحال کو جوں کا توں رہنے دینا مشکل ہو گیا ہے

محمود عباس کے ایک ترجمان غسان خاطب کہتے ہیں: ’’علاقے میں جاری انقلابی فضا میں اگر فلسطینی رہنما عوامی امنگوں پر پورا نہیں اترتے تو انہیں عوام میں اپنی مقبولیت کے حوالے سے یقینی پریشانی لاحق ہونی چاہیے۔‘‘ خاطب کے بقول: ’’ اقوام متحدہ میں آزاد ریاست کے لیے درخواست پیش کرنے کے سبب میں سمجھتا ہوں کہ عوامی دباؤ کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

رواں ہفتے شائع ہونے والے ایک سروے سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ محمود عباس کی مقبولیت فلسطینیوں میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ فلسطینی سنٹر برائے پالیسی اینڈ سروے کی جانب سے کیے جانے والے ایک پول کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران عباس کی مقبولیت 59 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

محمود عباس کی طرف سے اقوام متحدہ میں آزاد ریاست تسلیم کرانے کے لیے درخواست پیش کرنے کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے فلسطینیوں کے لیے امداد کا سلسلہ رک سکتا ہے جس سے فلسطینیوں کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ فلسطینی اس بات کا ادراک رکھنے کے باوجود بھی یہ درخواست پیش کرنے کے حامی ہیں۔ 1200 فلسطینیوں سے کیے جانے والےسروے سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے 80 فیصد یہ درخواست پیش کرنے کے حق میں ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM