1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فضائی سفر اور سیکیورٹی، امریکی اور یورپی رہنماؤں کا اجلاس

فضائی سفرکو مزید محفوظ کس طرح بنایا جائے؟ ہوائی اڈوں پر چیکنگ کے نظام میں بہتری کس طرح لائی جا سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل دنیا بھر کو مصروف رکھے ہوئے ہیں۔

default

اسی سلسلے کی ایک کڑی ہےجعمرات سے اسپین میں امریکی اور یورپی حکام کا اجلاس بھی شامل ہے ۔ یورپی اور امریکی حکام ہوائی اڈوں پر باڈی اسکینرز کی تنصیب کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ اسپین کے شہر تولیدو میں ہونے والے اس اجلاس میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ اور امریکہ میں داخلی سیکیورٹی کی خاتون سربراہ جینٹ ناپولیتانو شریک ہیں۔

مکمل باڈی اسکینرزکی تنصیب کا مسئلہ یورپی یونین میں متنازعہ حیثیت اختیارکر چکا ہے۔ کئی یورپی ریاستیں اسے مسافروں کے انتہائی نجی معاملات میں دخل اندازی سے تعبیر کر رہی ہیں اور ان میں جرمنی بھی شامل ہے۔ یورپی پارلیمان کی سوشل ڈیموکریٹ رکن برگٹ زِپل کو تولیدو اجلاس میں تند و تیز بحث کی امید ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اس موضوع پرکس طرح کھلم کھلا بحث کی جا سکتی ہے جب تمام ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں سمیت بڑے بڑے کاروباری اور عوامی مراکز میں اسکینرز نصب کرنے کی بات کی جا رہی ہو۔‘‘

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی امریکی وزیر ناپولیتانو اس متنازعہ موضوع پر یورپی یونین میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔ ساتھ ہی ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ یورپ میں بھی اوباما انتظامیہ کی فضائی سفرکی پالیسی کو اپنایا جائے۔

2004ء سے یورپی یونین اور امریکہ کے مابین ایک معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اس کی رو سے امریکہ کا سفر کرنے والے مسافروں کی تمام معلومات پہلے ہی سے امریکی حکام کو بھیج دی جاتی ہیں۔ نامزد یورپی کمشنر برائے انصاف ریڈنگ کہتی ہیں کہ یورپی کمیشن میں بھی اس بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق: ’’سلامتی کے نام پر انتہائی نجی معاملات میں دخل اندازی کےکسی بھی اقدام کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘

Alfredo Perez Rubalcaba Innenminister Spanien

اسپین کے وزیر داخلہ Alfredo Perez Rubalcaba

اسپین کے وزیر داخلہ Alfredo Perez Rubalcaba نے کہا کہ جب بات سلامتی کی ہو تو وہ امریکہ کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ یورپی سطح پر باڈی اسکیننگ کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ 2008ء میں یورپی کمیشن نے اس بارے میں ایک تجویز پیش کی تھی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ اسی طرح رواں ماہ کے اوائل میں فضائی امور کے یورپی ماہرین کے ایک اجلاس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ کچھ یورپی حلقوں کا خیال ہے کہ تولیدو میں ہونے والے اس اجلاس سے بھی کسی ٹھوس فیصلے کی امید نہیں کی جانی چاہیے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM