1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فسادات لندن کے بعد دیگر تین شہروں تک پھیل گئے

برطانوی دارالحکومت لندن میں جاری فسادات کا سلسلہ ملک کے تین دیگر شہروں تک پہنچ گیا ہے۔ ہنگاموں اور لوٹ مار کا سلسلہ لندن کے دیگر کئی علاقوں میں پھیل گیا ہے۔

default

ٹوٹنہام میں ہفتے کو احتجاجی مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد نوجوانوں اور پولیس کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپیں تیسری شب بھی جاری رہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ ہنگامے دیگر شہروں میں بھی پھیل سکتے ہیں۔

تشدد، لوٹ مار، گاڑیوں اور عمارتوں کو جلانے کا سلسلہ لندن کے دیگر علاقوں کے علاوہ ملک کے وسطی شہر برمنگھم، شمال مغربی شہر لیور پول اور برسٹل تک پھیل گیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق لندن میں حالات کو قابو کرنے کے لیے 1700 اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے بکتر بند گاڑیاں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

لندن پولیس کے مطابق گزشتہ 30 برس کے ان شدید ترین فسادات کے سلسلے میں تین روز کے دوران 334 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں ایک 11 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ ان ہنگاموں میں 35 پولیس افسران زخمی ہو چکے ہیں۔

تشدد، لوٹ مار، گاڑیوں اور عمارتوں کو جلانے کا سلسلہ لندن کے دیگر علاقوں کے علاوہ برمنگھم، لیور پول اور برسٹل تک پھیل گیا ہے

تشدد، لوٹ مار، گاڑیوں اور عمارتوں کو جلانے کا سلسلہ لندن کے دیگر علاقوں کے علاوہ برمنگھم، لیور پول اور برسٹل تک پھیل گیا ہے

ادھر ویسٹ مِڈلینڈز پولیس نے تصدیق کی کہ برمنگھم میں گزشتہ رات ہونے والے فسادات کے سلسلے میں 87 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وسطی انگلینڈ کے اس شہر میں ایک پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگا دی گئی۔

لندن میں فسادات کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اٹلی میں اپنی تعطیلات منسوخ کرکے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق وہ آج ہنگامی حالات سے نمٹنے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ داخلہ سیکرٹری تھریسا مے کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔ تھریسا مے اس وقت لندن پولیس کی قائم مقام سربراہ بھی ہیں۔

ادھر لیور پول پولیس نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہنگاموں کا یہ سلسلہ ملک کے اس شمال مغربی شہر تک پھیل گیا ہے۔ رات میں کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ لیور پول پولیس کے ایک ترجمان اینڈی وارڈ کے مطابق: ’’ ہم لیور پول کی سڑکوں پر کسی قسم کی ہنگامہ آرائی برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس