1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فزکس کا نوبل انعام کوسمولوجی پر تحقیق کرنے والوں کے نام

کائنات پھیل رہی ہے اور اس کی رفتار ان اندازوں سے کہیں زیادہ ہے جو پہلے لگائے گئے تھے۔ یہ حقیقت دریافت کرنے والے سائنسدانوں کو اس سال کے نوبل انعام برائے فزکس سے نوازا گیا ہے۔

default

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم نوبل پرائز کمیٹی نے اس برس کے نوبل انعام برائے فزکس کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ انعام امریکہ کے تین سائنسدانوں کو کوسمولوجی یعنی علم کائنات سے متعلق ان کے کام پر دیا گیا ہے۔

 42 سے 52 برس عمر کے یہ تینوں سائنسدان امریکی ہیں۔ سال پیرلمُٹر اور ایڈم رِیس امریکی ہیں جبکہ برائن شمٹ آسٹریلوی نژاد امریکی ہیں۔ ان سائنسدانوں نے کئی برسوں تک تباہ ہوتے ہوئے ستاروں یعنی ’سپر نووا‘ پر تحقیق کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ  14 ارب سال پہلے بگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آنے والی کائنات اب تک کے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے۔

کسی ستارے کے تباہ ہونے سے جو توانائی پیدا ہوتی ہے، اسے سپرنووا کہتے ہیں

کسی ستارے کے تباہ ہونے سے جو توانائی پیدا ہوتی ہے، اسے سپرنووا کہتے ہیں

نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی جیوری کا کہنا ہے: ’’اس بات کا پتہ لگانا کہ توسیع میں ایکسلریشن یعنی اسراع پیدا ہو رہا ہے، بہت ہی حیران کرنے والا ہے۔‘‘

ان تینوں سائنسدانوں نے 1990 کی دہائی میں اپنا کام شروع کیا اور اس کے لیے انہوں نے سپرنووا کو بنیاد بنایا۔ کسی ستارے کے تباہ ہونے سے جو توانائی پیدا ہوتی ہے، اسے سپرنووا کہتے ہیں۔ کئی بار ایک ستارے سے جتنی توانائی نکلتی ہے، وہ ہمارے نظام شمسی کے ستارے یعنی سورج کی کُل توانائی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM