1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فزکس میں نئی حیران کُن God Particle کی دریافت کا عمل

فزکس کی دنیا میں انقلاب آفریں تحقیق سے انقلابی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے

ایٹمی تجربات کے لیئے دنیا کی سب بڑی سرنگLarge Hardon Collider کا ایک منظر

ایٹمی تجربات کے لیئے دنیا کی سب بڑی سرنگLarge Hardon Collider کا ایک منظر

نظریاتی جوہری فزکس کے ماہرین، خود کو ایک ایسے انتہائی طاقتور ذرے کی دریافت کے قریب محسوس کر رہے ہیں جس کو اُنہوں نےGod Particle کا نام دیا ہے۔اِس اہم ترین اور طاقتور ترین منصوبے میں امریکی اور یورپی سائنسدان شریک ہیں جن کو قوی یقین ہے کہ اگلے ایک سال کے اندر اندر وہ اِس حیران کؑن دریافت میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔

مشہور زمانہ برطانوی سائنسدان Peter Higgsنے چالیس سال قبل یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کسی بھی عنصریا کائنات کے اندر ایک ایسا ایٹم موجود ہے جو انتہائی طاقت کا حامل ہے۔اِس کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ وزن کے بغیر یعنی کیمیت نہ رکھنے والے پروٹون کے اندر مخفی یا پو شیدہ جوہر کی قوت کا ادراک لگانا ہے۔اُن کا Higgs Bosonکے نام والا ذرہ یا سالمہ یا ایٹم حقیقت میں ذراتی طبیعات یا Particle Physicsمیں سوچ کا ایک دریچہ ہے۔یہ اصل میں Higgs Mechanismکا ایک ذیلی موضوع ہے۔Particle Physics میں اس کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی جا رہی ہے۔

ایک حیران کُن پہلُو ہے کہ ان کے ذہن پر یہ سب تصورات اُس وقت پیدا ہوئے تھے جب وہ سکاٹ لینڈ کے پہاڑی سلسلے Cairngormsمیں گھوم پھر رہے تھے۔

اِس کو آسان اصطلاح میں توانائی کی سطح کے لحاظ سے تقسیم شدہ ایٹمی یا نیم ایٹمی ذرات جو طاقت کا منبع ہوتے ہیں۔آئین سٹائن کی فکر کے مطابق تقسیم شدہ دو یا دو سے زیادہ ذرات میں انتہائی زیادہ توانائی کی سطح ایک ہو سکتی ہے یا ایک ہی رہتی ہے۔

اِس نظریے کی لیبارٹری سطح پر نتائج حاصل کرنے کے لیئے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک نئی سرنگ مکمل کر لی گئی ہے۔سوئٹزر لینڈ اور فرانس کی سرحدوں پر واقعCERNمیںسترہ میل دائرے کی شکل کی یہ سرنگ سن دو ہزار تین سے دوارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جا رہی تھی۔اس جوہری سرنگ میں سیکنڈکی تقسیم کے اندر کئی بار پروٹون کے آپس ٹکرانے کا عمل ممکن ہے جو کائنات کی تخلیق سے قبلBig Bangکے بعد دوبارہ دیکھا جا سکے گا۔اس سرنگ کا نام ہےLarge Hardon Collider۔

اِس کو یورپی لیبارٹری برائے ذراتی فزکس میں تعمیر کیا گیا ہے۔یہ لیبارٹری عالمی سطح پرCERNکے نام سے مشہور ہے۔ اگلے کئی ماہ کے دوران فزکس کے نامی گرامی کئی سو سائنسدان اِس عظیم تجربہ گاہ میں کیمیت کے بغیر پروٹون کے ٹکرانے کے عمل کا بغور مطالئعہ کرتے ہوئے برطانوی سائنسدان کی فکر کوعملی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔اِس سرنگ میں پروٹون روشنی کی رفتار سے حرکت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور اِس عمل میں وہ تقسیم ہونے کے بعد مزید تحریک کے بھی حامل ہوں گے۔

ایسا گمان کیا جا رہا ہے کہ اِس مناسبت سے امریکی شہر شکاگو میں کی تجربہ گاہTevatron میں بھی سائنسدان اُس طاقتور ذرے کی تخلیق کے قریب پہنچ گئے ہیں۔اِس طاقتور ذرے کو God Particleکا نام نوبل انعام یافتہ سائنسدانLeon Ledermanنے دیا ہے جو انتہائی باریک تر جوہری ذرےneutrinosکی دریافت میں شامل تھے اور اُن کے

خیال میں اِس خدائی صفات کے حاملGod Particle کی دریافت سے خدائی ذہن کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔ عام انسانی ذہنوں میں یہ بھی فکر موجود ہے کہ پروٹون کے ٹکرانے سے بے بہا توانائی سے کہیں سرنگ اور لیبارٹری کی سطح کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ برطانوی سائنسدانPeter Ware Higgs ایڈنبرا یونی ورسٹی میں تاحیات فزکس کے پروفیسر ہیں۔اُن کو نوبل انعام کے بعد سب سے معتبر خیال کیا جانے والاWolf Prize سے سن دو ہزار چار میں نوازا گیا تھا۔