1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فریڈم فلوٹیلا تحقیقاتی پینل، امریکہ کا خیرمقدم

امریکہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ کے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے حوالے سے تحقیقاتی پینل قائم کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس چار رکنی پینل کے قیام کا اعلان پیر کو کیا گیا۔

default

Susan Rice

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر سوسن رائس

اس پینل میں اسرائیل اور ترکی کا ایک ایک رکن بھی شامل ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پینل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سربراہی نیوزی لینڈ کے سابق وزیر اعظم جیفری پالمر اور کولمبیا کے سابق صدر Alvaro Uribe مشترکہ طور پر کریں گے۔ یہ پینل رواں برس 31 مئی کو غزہ جانے والے فریڈیم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی کی تفتیش کرے گا۔ اس دوران نو ترک باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس پینل کے قیام کے ردِ عمل میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوسن رائس نے کہا، ’ہم اسرائیل اور ترکی، دونوں حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے تعمیری تعاون کا رویہ دکھایا ہے۔ ہم لگن اور قیادت کے لئے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بھی مشکور ہیں۔‘

خیال رہے کہ اسرائیل قبل ازیں اس حوالے سے آزادانہ بین الاقوامی تحقیق کو مسترد کرتا رہا ہے۔ فریڈیم فلوٹیلا کے واقعے سے یروشلم اور انقرہ حکومتوں کے درمیان حائل خلیج اور بھی وسیع ہوئی۔ یہ دونوں ملک کبھی قریبی اتحادی تھے۔

سوسن رائس نے کہا،’ امریکہ کو اُمید ہے کہ یہ پینل ترکی اور اسرائیل کو قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ کو اس پینل کو شفاف اور مؤثر انداز میں چلائے جانے کی توقع ہے۔

یہ پینل دس اگست کو کام شروع کرے گا اور آئندہ ماہ کے وسط تک پہلی رپورٹ پیش کرے گا۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بان کی مون آئندہ چند دنوں میں پینل کے اسرائیلی اور ترک ارکان کا اعلان کریں گے۔

Ban Ki Moon in Kopenhagen 2

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون

گزشتہ ماہ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے بھی فریڈم فلوٹیلا کے واقعے کی تفتیش کے لئے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد اس امدادی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے تناظر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا تعین کرنا ہے۔ تاہم اسرائیل اس کمیشن کو ’متعصب‘ قرار دیتے ہوئے، اس کے ساتھ تعاون سے انکار کر چکا ہے۔

انقرہ حکام کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ ادا کرے، اس واقعے پر معافی مانگے اور غزہ کے لئے نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ہٹائے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے کمانڈوز نے طاقت کا استعمال اس وقت کیا، جب ان پر بحری جہاز پر موجود افراد نے حملے کی کوشش کی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس