1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’فریڈم فلوٹیلا‘ اس بار یونانی کمانڈوز نے روک لیا

ایک چھوٹے بحری جہاز کا راستہ روکے اور اپنی بندوقیں اس کے مسافروں کی طرف تانے سیاہ کپڑوں میں ملبوس کمانڈوز پر مشتمل یہ منظر تو نیا نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور نئی ہے کہ اس مرتبہ یہ کمانڈوز اسرائیل کے نہیں، یونان کے ہیں۔

default

میگا فون پر انسانی حقوق کے ایک امریکی کارکن کی آواز ابھرتی ہے، ’’ہم غیر مسلح شہری ہیں، ہم غزہ اور مغربی کنارے کے بارے میں اپنی حکومتوں کی پالیسیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد آپ لوگوں کی بے توقیری نہیں ہے۔‘‘

لیکن جمعہ کی سہ پہر دو گھنٹے تک روکے رکھنے کے بعد اس کشتی کو زبردستی Piraeus بندرگاہ واپس لے جایا گیا۔ جس کے بعد اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کی ناکہ بندی کے حوالے سے احتجاج کا یہ سارا منظر بین الاقوامی سمندر کی بجائے یونان کی بندرگاہ پر منتقل ہوگیا۔

31 مئی 2010 کو امدادی قافلے میں شامل ایک جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز نے کارروائی کے دوران نو امدادی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا

31 مئی 2010 کو امدادی قافلے میں شامل ایک جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز نے کارروائی کے دوران نو امدادی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا

انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے غزہ پٹی کے محصور عوام کے لیے امدادی سامان لے جانے والے اس قافلے کو روکنے کا واقعہ یونان کی طرف سے جمعہ ہی کے روز ایک اعلان کے بعد رونما ہوا۔ اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ غزہ کے لیے یونان سے کوئی جہاز روانہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اتوار کے روز اس پابندی کو اسرائیلی سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ’فریڈم فلوٹیلا ٹو‘ کے غزہ پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس امدادی قافلے کا ’ڈنگ‘ ختم ہوگیا ہے۔

’فریڈم فلوٹیلا ٹو‘ کے نام سے اس امدادی قافلے کے کُل 10 میں سے آٹھ جہاز یونان میں لنگر انداز ہیں، لہٰذا یونانی اجازت کے بغیر لگتا یہ ہے کہ اس اس قافلے کو غزہ پٹی تک پہنچنے کا اپنا مشن ادھورا ہی ختم کرنا پڑے گا۔

اس امدادی قافلے کا ’ڈنگ‘ ختم ہوگیا ہے، ایہود باراک

اس امدادی قافلے کا ’ڈنگ‘ ختم ہوگیا ہے، ایہود باراک

فلوٹیلا منتظمین میں سے ایک اور آزاد غزہ تحریک (Free Gaza Movement) سے تعلق رکھنے والے ایڈم شاپیرو Adam Shapiro کے بقول اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی پر عملدرآمد کا ’ٹھیکہ‘ یونان کو دے دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈم شاپیرو کا کہنا تھا: ’’ اس موقع پر میں یہی کہوں گا کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی یقینی بنانے کا معاملہ دوسرے ملکوں کے سپرد کر رہا ہے، اور ہمیں اب اپنی جدوجہد یہاں یونان سے شروع کرنا پڑے گی۔‘‘

39 سالہ امریکی شہری ایڈم شاپیرو کے بقول فلسطین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن یونانی حکومت کے اس اقدام پر کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، دم بخود رہ گئے۔

31 مئی 2010 کو ایسے ہی امدادی قافلے میں شامل ایک جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز نے کارروائی کے دوران نو امدادی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے پر پوری دنیا کی طرف سے احتجاج سامنے آیا اور اس کی مذمت کی گئی تھی۔ لیکن اس کے برعکس ایک برس بعد یہ لگتا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا ٹو اب بھی قانونی اعتبار سے بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں کر پائے گا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس