1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرینکفرٹ کتاب میلہ

سن دو ہزار آٹھ کے فرینکفرٹ کتاب میلے کو اس بار ایشیاء اور یورپ کے مابین ادبی اور ثقافتی پل کے ذریعے قریب لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

default

فرینکفرٹ منعقدہ امسالہ بین الاقوامی کتاب میلے کی گزشتہ شب افتتاحی تقریب کے انعقاد کے بعد آج پہلے دن اس کے دروازے کتب اورتصنیفات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اورتاجرین کے لئے کھول دئے گئے ہیں۔ آئندہ ہفتے اور اتوار کے روزاس نمائش سےعام پبلک مستفید ہو سکے گیں۔سن دو ہزار آٹھ کے فرینکفرٹ کتاب میلے کو اس بار ایشیاء اوریورپ کے مابین ادبی اور ثقافتی پل کے ذریعے قریب لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یعنی ترکی اس بار کے میلے کا مہمان خصوصی اورپارٹنرملک ہے جس کے ادبی اور ثقافتی رنگوں کو قریب سے دیکھنے کا یہ ایک نادرموقع سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کتاب میلے میں موجود ادب نوبل انعام یافتہ معروف ترک مصنف ارہان پاموک نے ایک بیان میں اپنے ملک کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو اپنے ادب کو مینارعاج میں نصب کوئی شے نہیں سمجھنا چاہئے، بلکہ اپنی تاریخ اوردنیاء کی طرف ہمارے طرز نگاہ پرہمیں بغیر کسی دباؤ کے آزاد خیالی کے ساتھ دیکھنا اور بولنا چاہئے۔

Deutschland Frankfurt Buchmesse 2008 Logo und Messeturm


ارہان پاموک اور ترکی کے صدرعبداللہ گل فرینکفرٹ کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں موجود تھے جس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ترکی میں کثرت وجود اورجمہوریت کے فروغ جیسے رجحانات کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ انکی جھلک ترکی ادب میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ تاہم جرمن وزیرخارجہ نے ترکی میں آزادی رائے کے تصور کے بارے میں پائی جانے والی سوچ میں تبدیلی کی طرف زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادئ رائے ترکی کے یورپی یونین میں رکنیت حاصل کرنے کے ضمن میں محض ایک شرط کی حیثیت نہیں ہے بلکہ اس شرط کو پورا کرنے کے لئے ترکی کو یورپی یونین کے قوانین کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا ہوگی۔ یہ عمل زہنیت میں تبدیلی کم متقاضی ہے۔ ترک صدرعبداللہ گل نے بھی اکثر اس بارے میں گفتگو کی ہے۔ ترکی کو ابھی اس سمت مزید چلنا ہو گا تاہم اہم امر یہ ہے کہ ہم اس رستے پر آگے بڑھنے میں ترکی کی مدد کریں۔

Logo Frankfurter Buchmesse 2008

فرینکفرٹ کتاب میلے کا لوگو


اس بار کے کتاب میلے کے شرکاء اورنمائش کنندگان کے اندر انٹرنیٹ کے غلبے کے سبب پرنٹنگ پریس یا طباعتی صنعت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ماضی کے مقابلے میں خوش امیدی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ابتک اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کا خیال تھا کہ انٹرنٹ کے پھیلاؤ کے سبب کتابوں کی تجا رت کو نا تلافی نقصان پہنچا ہے تاہم اس بار کے کتاب میلے میں شریک چند معروف ناشرین اور کتاب فروشوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے نئی کتابوں کے مواد کو عام کرنے کے عمل سے طبع شدہ کتابوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔ امسالہ بین الاقوامی کتاب میلے میں برازیل کے Best Sellinng مصنف Paulo Coelho نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ سالوں سے اپنی تصنیفات کو ڈیجیٹل شکل میں انٹرنٹ کے ذریعے تقسیم کر رہے ہیں اورایسا کرکہ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ اپنے خیا لات اور تصورات کو دوسرے تک پھیلانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔