1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فرینکفرٹ کا کتاب گھر

جرمنوں کے بارے ميں ايک عام خيال يہ ہے کہ وہ مطالعے کے شوقين ہنں ليکن يہ بات تمام جرمنوں پر صادق نہيں آتی۔ چاليس فيصد سے زائد جرمن کبھی کوئی کتاب نہيں پڑھتے۔ ليکن آدھے سے زيادہ جرمنوں کے لئے مطالعہ معمول کی بات ہے۔

default

مطالعے کے شوقین حضرات کے لئے جرمن شہر بریمن کی موبائل دوکان: فائل فوٹو

جرمنی کے مالياتی مرکز فرينکفرٹ کی گوئٹے يونيورسٹی سے چند منٹ کے فاصلے پر،چھوٹے کيفوں اور پھولوں کی دکانوں کے درميان انک مشہور کتب خانہ ہے۔اسے اس مناسبت سے مصنفين کتاب گھر کا نام ديا گيا ہے کيونکہ اسے سن1979ء ميں چند مصنفين نے مل کر کھولا تھا۔ اس کی مينيجر باربرا ڈيٹر من نے کہا کہ ان کے خريدار آج بھی تقريباً وہی ہيں جو شروع ميں تھے۔ باربرا ڈيٹر من کا خیال ہے کہ اُن کے کتب خانے ميں عمدہ کتابيں ہيں۔ وہ اکثر اس بارے ميں سوچتی ہیں کہ اچھی کتاب کون سی ہوتی ہے۔کيونکہ ايک اچھی کتاب کا تصور بہت مختلف ہو تا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ جو کتاب کتاب رات کے وقت مطالعے کے لئے اچھی ہوتی ہے وہ دن کے وقت ممکن ہے اتنی موزوں يا اچھی نہ ہو۔ اس کتاب گھر کی خاص بات يہ ہے کہ اس ميں اچھی کتب کی بڑی قدر کی جاتی ہے اور اسے بڑی اچھی طرح سے الماريوں ميں ترتيب کے ساتھ رکھا بھی جاتا ہے۔

Deutschland Geschichte Kultur Anna Amalia Bibliothek Rokokosaal

جرمن شہر وائیمار میں قائم تاریخی لائبریری

باربرا ڈيٹر من نا ولز اور فکشن کی کتابوں کو بھی اچھی کتب ميں شمار کرتی ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے قارئين اب بھی موجود ہيں حالانکہ ان کے ناپيد ہونے کے دعوے کئے جاتے ہيں۔ چودہ سال سے بڑی عمر کے نوجوانوں ميں سے ايک چوتھائی کوئی کتاب نہنں پڑھتے۔ ان کے مقابلے ميں ايسے لوگوں کا تناسب تين فيصد ہے جو سال ميں پچاس سے زنادہ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہيں، نعنی وہ اوسطاً ہر ہفتے ايک کتاب پڑھتے ہيں۔ شہر مائنس کی،مطالعے کی ايسوسی ايشن کے کرسٹوف شيفر کے خيال ميں مطالعے کا شوق ہونے يا نہ ہونے کا انحصار بچپن اور چھوٹی عمر کے تجربات پر ہوتا ہے۔ باربرا ڈيٹر من مزید بتاتی ہیں کہ بچے مطالعہ نہ کرنے والے سے مطالعہ کرنے والے ميں عام طور پر اس طرح تبديل ہوتے ہيں جب انہنں کچھ پڑھ کر سنايا جاتا ہے۔ تاہم مطالعے کا شوق پيدا کرنے کے لئے بہترين عمر،دس سال تک کے بچوں کے صرف بياليس فيصد والدين ايسے ہيں جو نا تو اپنے بچوں کو کبھی کچھ پڑھ کر نہيں سناتے يہ صرف شاذونادر ہی ايسا کرتے ہيں۔

مطالعاتی جائزوں کے مطابق اس گروپ ميں شامل والدين ميں اضافہ ہورہا ہے۔دوسری طرف مطالعے کے شوقين جرمن، جو اسے ايک قيمتی ثقافتی صفت سمجھتے ہيں، کتابوں کے مضامين اور مطالب کے اچھے معيار کو زيادہ اہميت دے رہے ہيں۔

باربرا ڈيٹر من نے کہا کہ ان کے کتاب گھر منں بچوں اور نوجوانوں کی کتب ميں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نوجوان اور تعليم يافتہ والدين اپنے بچوں ميں اچھی کتب کے مطالعے کا ذوق و شوق پيدا کرنا چاہتے ہيں۔