1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فرینکفرٹ میں عالمی کتاب میلے کا آغاز

جرمن شہر فرینکفرٹ میں ایک بار پھر سجنے جا رہا ہے، دنیا کا سب سے بڑا کتاب میلہ۔ آج تیرہ اکتوبر کو اِس میلے کا افتتاح ہوا اور یہ میلہ اٹھارہ اکتوبر تک جاری رہے گا۔

default

جرمن شہر فرینکفرٹ میں ایک شاندار تقریب کے ساتھ سالانہ عالمی کتاب میلے کا آغاز ہوا ہے۔ افتتاحی تقریب میں چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ساتھ چین سے آئی ہوئی متعدد معزز شخصیات بھی شریک ہوں گی۔ اِس بار بھی ایک سو ملکوں سے سات ہزار نمائش کنندگان اِس میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔

دنیا بھر کے ساٹھ سے زیادہ بڑے کتاب میلوں میں فرینکفرٹ کا سالانہ کتاب میلہ سب سے بڑا بھی ہے اور سب سے اہم بھی۔ آج کل پوری دُنیا جس مالیاتی بحران سے دوچار ہے، اِکسٹھ ویں فرینکفرٹ کتاب میلے پر بھی اُس کے اثرات نظر آتے ہیں، اگرچہ کم کم ۔

Deutschland Frankfurt Buchmesse 2008 Logo und Messeturm

گزشتہ سال کے میلے کا لوگو

میلے کے منتظمین کا خیال تھا کہ ہر سال کی طرح اِس بار بھی نمائش کنندگان کی تعداد گذشتہ ریکارڈ توڑ دے گی لیکن اِس بار معاملہ اُلٹ ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں کوئی چار سو چالیس کم نمائش کنندگان فرینکفرٹ کے کتاب میلے میں موجود ہوں گے۔ خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے کئی پبلشرز اِس بار فرینکفرٹ نہیں آ رہے۔ اِس کی وضاحت کرتے ہوئے کتاب میلے کے ڈائریکٹر ژُرگن بوس بتاتے ہیں کہ انگیلنڈ میں تو پورا ڈسٹری بیوشن سسٹم نیچے آن گرا ہے۔ وہاں جرمنی کی طرح آزاد بُک اسٹورز کا کوئی وجود نہیں۔ جرمنی کے حوالے سے سننے میں آنے والے اعدادوشمار بہرحال اطمینان بخش ہیں۔ انگلینڈ میں دو تین بڑے اسٹورز ہیں، جن کی مختلف شہروں میں شاخیں ہیں، کتابوں کی عام دوکانیں کم ہی ہیں۔ امریکہ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ وہاں بارنز اینڈ نوبلز ہے، بارڈرز ہے، بڑے بڑے اسٹورز ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی دوکانیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان بڑے بڑے اسٹورز کے اپنے مسائل ہیں، وہ کتابیں فروخت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں۔ اب ایمازون اور گوگل جیسے ادارے الیکٹرانک بُکس کے شعبے میں قدم رکھ چکے ہیں اور یوں مارکیٹ میں کافی گہما گہمی ہے۔

BdT Deutschland Buchmesse Frankfurt Besucher Nonnen

فرینکفرٹ کتاب میلے کے شائقین : فائل فوٹو

اِس سال میلے کے اعزازی مہمان ملک چین سے تین سو اشاعتی اداروں کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک ہزار شاعر، ادیب اور فنکار بھی فرینکفرٹ آ رہے ہیں۔ اِس طرح شائقین کو اُن چینی ادیبوں کے بارے میں بھی جاننے کا موقع ملے گا، جنہیں چین کے اندر تو کروڑوں جانتے ہیں لیکن بیرونی دُنیا میں کوئی اُن کے نام تک سے بھی واقف نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین میں ادب ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ کیا وجہ ہےکہ چینی کتابیں سات آٹھ سو صفحات کی ہوا کرتی ہیں؟ چینی ادب پر گہری نظر رکھنے والے جرمن ماہر وولف گانگ کُوبین کے مطابق اِس کی وجہ ہے، پیسہ ہے۔ وولف گانگ کُوبین کا خیال ہے کہ مصنفین دو تین سو صفحات کی کتابیں نہیں لکھتے کیونکہ اُنہیں فی سطر کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ وہ ادب کے فروغ کے لئے نہیں بلکہ پیسہ کمانے کے لئے لکھتے ہیں۔

اِس بار بھی کتاب کے مختلف شعبوں سے متعلق کوئی تین لاکھ شخصیات اور عام شائقین یہ میلہ دیکھنے جائیں گے۔