1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرینکفرٹ فائرنگ کیس: اسلامی پراپیگنڈے سے متاثر ہوا، ملزم

جرمنی میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث کوسووو نژاد اکیس سالہ نوجوان کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

default

بدھ کے روز سماعت کے دوران ارید نے عدالت کو بتایا کہ اسے اپنے کیے پر افسوس ہے اور اس نے یہ قدم اسلامی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر اٹھایا۔ اس نے کہا کہ یہ حملہ مکمل حماقت اور میرے مذہبی تصورات سے متصادم تھا۔ رواں برس مارچ کے آغاز پر فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر ہونے والے اس حملے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔ جرمن سرزمین پر اس نوعیت کا یہ پہلا حملہ تھا۔

اس نوجوان پر ساؤتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ نکولاس جے ایلڈین اور ورجینیا سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ زیشرے کوڈےبیک کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ اس پر مزید دو فوجیوں کو زخمی کرنے اور اقدام قتل کے بھی الزامات ہیں۔    

Deutschland Kosovo USA Soldaten Arid Uka Gericht Prozess Frankfurt

ارید کے حکام کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں ممکن ہے کہ اس کی سزا کم ہو جائے

گو کہ جرمنی میں دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، تاہم کسی اسلامی انتہا پسند کی جانب سے یہ اس نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ اس سے قبل بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ’ریڈ آرمی فیکشن‘ کے شدت پسند جرمنی میں تخریب کاری کرتے رہے ہیں۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد جرمنی میں ممکنہ دہشت گردی کے متعدد منصوبے ناکام بنا دیے گئے۔ ان میں سے ایک سن دو ہزار سات میں رامشٹائن کے امریکی فضائیہ کے اڈے پر امریکیوں کے قتل کا منصوبہ بھی تھا۔

استغاثہ کے مطابق ارید فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کی غرض سے ہی گیا تھا اور وہ زیادہ سے زیادہ امریکی فوجیوں کو مارنا چاہتا تھا۔ ارید دوران پیشی متعدد بار رو پڑا۔ اس کا کہنا تھا، ’’میں نے جو کیا، وہ غلط تھا مگر اب اس کو بدلا نہیں جا سکتا۔‘‘ اس نے مسلم انتہا پسندوں سے اپیل کی کہ وہ اس کے اقدام سے متاثر نہ ہوں اور انٹرنیٹ پہ موجود ’جھوٹے پروپیگنڈے‘ کی طرف توجہ نہ دیں۔

ارید کے حکام کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں ممکن ہے کہ اس کی سزا کم ہو جائے، تاہم ملزم نے پولیس کو اب تک یہ نہیں بتایا کہ اس نے وہ پستول کہاں سے حاصل کی تھی، جس کے ذریعے اس نے امریکی فوجیوں کو قتل کیا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM