1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرینکفرٹ: ’امریکی فوجیوں کے قتل کا محرک اسلامی انتہا پسندی‘

جرمن صوبے ہیسے کے وزیرِ داخلہ بورس رائن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ کو فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر دو امریکی فوجیوں کو قتل کرنے والا شخص چند ہفتوں قبل ہی اسلامی انتہا پسندی کی طرف مائل ہوا تھا۔

default

دو مارچ، بدھ کے روز فرینکفرٹ ہوائی اڈّے پر کوسووو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے دو امریکی فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا

کوسووو سے تعلق رکھنے والے البانوی نسل کے اکیس سالہ شخص، جس کا نام ’ارید اکا‘ بتایا جا رہا ہے، نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ عمل اپنی ایما پر کیا تھا اور اس میں کوئی دوسرا شخص یا گروہ ملوّث نہیں ہے۔
Deutschland USA Anschlag auf US Soldaten in Frankfurt Türschild Attentäter

امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے شخص کے ڈاک بکس پر ’یو کے اے‘ درج ہے جسے’ اُکا‘ یا ’یوکا‘ بھی پڑھا جا سکتا ہے

ہیسے کے وزیرِ داخلہ بورس رائن کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص حالیہ چند ہفتوں میں ہی اسلامی انتہا پسندی کی طرف راغب ہوا تھا۔ وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ملزم نے یہ کام اکیلے ہی کیا اور اس کے عمل کے پیچھے کوئی گروپ نہیں ہے۔

ملزم کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر کام کرتا تھا اور وہ ایک پکّا مسلمان بھی ہے۔

جرمن حکّام اس کے اسلامی انتہا پسندی کی جانب راغب ہونے کے عوامل کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اس واقعے پر شدید رنج اور غصّے کا اظہار کیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کے قتل کے محرّکات جاننے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM