1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فریقین یکطرفہ فیصلے نہ کریں، جرمن وزیر خارجہ کا اسرائیلی اور فلسطینی حکام کو مشورہ

ویسٹر ویلے اور فلسطینی انتظامیہ کے عہدیداروں کے مابین ہونے والی ملاقات میں ’خود مختار فلسطینی ریاست ‘ کے باضابطہ اعلان کا موضوع چھایا رہا۔ برلن حکومت اس منصوبے پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

default

جرمن وزیرخارجہ گیڈو ویسٹر ویلےنے اپنے دورہ مشرق وسطی کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ ایوگڈور لیبر من سے ملاقات کی۔ اس موقع پر لیبرمن شام کے حوالے سے یورپی یونین کے طرز عمل سے نالاں دکھائی دیئے۔ جرمن وزیرخارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے فلسطنیی انتظامیہ کی جانب سے ستمبر میں ایک علیحدہ خود مختار ریاست کے اعلان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل اس فیصلے کواشتعال انگیزی سے تعبیر کرتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے برلن حکام کا موقف ہے کہ یہ یکطرفہ فیصلہ ہے اور یہ امن کے قیام میں ساز گار ثابت نہیں ہو سکتا۔ ویسٹر ویلے نے فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض کو یہ قدم نہ اٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔ ’’جرمن حکومت کا خیال ہے کہ یہ یکطرفہ قدم ہے اور اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ فریقین کو ہمارا مشورہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر واپس لوٹا جائے‘‘۔

Westerwelle in Israel

شامی صدر بشا رالاسد کو فوری طور پر مستعفیٰ ہوجانا چاہے، لیبرمن

فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض نے ویسٹرویلے کے مشورے کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں جرمن مہمان کی تنقید کے باوجود گزشتہ سترہ برسوں کے دوران برلن حکومت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تعاون پرجناب ویسٹر ویلے کے شکر گزار ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کے قیام سے لے کراب تک جرمنی نے انتہائی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد کر چکا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے اس دوران یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر خارجہ ایوگڈور لیبر من سے بھی ملاقات کی۔ لیبرمن نے شامی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کی۔

Westerwelle Fajad Deutschland Palästina Ramallah Israel

ویسٹر ویلے نے سلام فیاض سے رملہ میں ملااقات کی

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر یورپی یونین کے تمام ممالک کو شام سے اپنے سفیر واپس بلا لینے چاہیں۔’’شام کی صورتحال پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جس نے بھی گزشتہ دنوں کے دوران ٹی وی پر یہ پر تشدد مناظر دیکھے ہیں، اس کے لیے یہ امر بالکل واضح ہے کہ شامی صدر بشا رالاسد کو فوری طور پر مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔

شام میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی اسرائیلی سیاستدان نے صدر بشارالاسد کے خلاف اتنا سخت موقف اختیار کیا ہو۔ جرمن وزیر خارجہ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کے بیان پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اس دورے کے دوران جرمنی نے غزہ پٹی میں نکاسی آب کے ایک منصوبے کے لیے پندرہ ملین یورو کی امداد بھی دی۔

رپورٹ: سیباستیاں اینگل بریشٹ

ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت: شامل شمس

DW.COM