1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فرنچ اوپن: ’جائنٹ کلر‘ سٹوسر فائنل میں

ٹینس کے دوسرے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے خواتین سنگلز کے فائنل میچ کے لئے پہلی بار دو ایسی کھلاڑیوں ، شیاوونے اور سٹوسر نےکوالیفائی کیا ہے ،جنہیں پہلے کسی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے کا موقع نہیں ملا ہے۔

default

فرنچ اوپن میں خواتین کا ایک میچ

یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کھیلا جانے والا ٹینس گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ، فرنچ اوپن اب اپنی آخری منزل کے اور قریب ہو گیا ہے۔ پرسوں اتوار کو اس کا اختتام مردوں کے سنگلز کے فائنل میچ کے مکمل ہونے پر ہو جائے گا۔ جمعہ کو مردوں کے دو سیمی فائنل کھیلے جائیں گے۔ ان میں رافاعیل نادال اور رابن سوڈرلنگ کو اپنے اپنے میچوں میں دو نئے کھلاڑیوں کا سامنا ہے۔

جمعرات کو خواتین کے دو سیمی فائيل میچوں میں ایک تو شائقین کے لئے مایوسی لے کر آیا کیونکہ عالمی نمبر پانچ روسی کھلاڑی ایلینا ڈیمینٹیوا نے دوران میچ، انجری کی وجہ سے کھیل سےدستبردارہونے کا اعلان کردیا۔ ڈیمینٹیوا کو بائیں پنڈلی کے عضلات میں کھچاؤ پیدا ہونےکے باعث شدید درد کی شکایت پیدا ہو گئی تھی۔ اس وجہ سے وہ اس ماہ سے لندن میں کھیلے جانے والے سال کے تیسرے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ ومبلڈن میں شرکت کے بارے میں بے یقین ہیں۔

وہ فرنچ اوپن کے سیمی فائنل مرحلے میں اٹلی کی فرانسیکا شیاوونے کے

Australien Tennis Spielerin Jarmila Groth

سلوواکیہ نژاد آسٹریلوی کھلاڑی ژارمیلا گرات

خلاف پہلے سیٹ کے دوران اس درد کی وجہ سے کھیل کے قابل نہیں رہی تھیں۔ اس دستبرداری کے بعد تیس سالہ شیاوونے پہلی اطالوی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں جسےٹینس کے کسی بڑے ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہو۔

فرنچ اوپن کا دوسرا سیمی فائنل آسٹریلیا کی سمانتھا سٹوسر اور سیربیا کی سابق عالمی نمبر ایک ژالینا ژانکووچ کے درمیان تھا۔ ماہرین کو امکان تھا کہ سیربیا کی خاتون یہ میچ جیت کر شاید پہلے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کو جیتنے کی پوزیشن میں آ جائیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا، سیرینا ولیمز اور جسٹن ہینن کو ہرانے والی آسٹریلوی کھلاڑی سمانتھا سٹوسر کے حوصلے بہت بلند تھے اور سیمی فائنل میں بھی انہوں نے ایک اور معروف خاتون کھلاڑی کو ہرا کر اپنے ’جائنٹ کلر‘ ہونے کو ثابت کردیا ہے۔

سیربیا کی کھلاڑی ژالینا ژانکووچ، سیمی فائنل میچ میں سٹوسر کو مزاحمت دینے میں کُلی طور پر قاصر رہیں۔ سٹوسر نے دو سیٹ میں سیمی فائنل کا میچ بڑی آسانی سے جیت لیا۔ اس طرح گزشتہ تیس سالوں میں سٹوسر پہلی آسٹریلوی خاتون کھلاڑی ہیں، جو کسی گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچی ہیں۔ ان سے قبل آسٹریلیا کی خاتون کھلاڑی ایوانے گولاگانگ نے سن 1980ء میں ومبلڈن کپ جیتا تھا۔ رواں سال کے فرنچ اوپن میں ایک اور خاتون کھلاڑی ژارمیلا گراٹ نے بھی شرکت کی تھی لیکن وہ پری کوارٹر فائنل مرحلے میں ہار گئی تھیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM