1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرنٹيکس دستوں کی تعيناتی غير رکن ممالک ميں بھی ممکن، ايسل بورن

لکسمبرگ کے وزير خارجہ نے کہا ہے کہ يورپی يونين کی بارڈر ايجنسی کے دستوں کی تعيناتی مقدونيہ اور سربيا جيسے ان ملکوں ميں بھی ممکن ہے جو يورپی بلاک کے رکن نہيں ہیں۔

مغربی يورپ کے ملک لکسمبرگ کے وزير خارجہ ژاں ايسل بورن نے کہا ہے کہ فرنٹيکس کے اہلکاروں کو ان ملکوں ميں بھی تعينات کيا جا سکتا ہے، جو اٹھائيس رکنی يورپی يونين کا حصہ نہيں اور اس سلسلے ميں ان رياستوں کو مدد کرنی چاہيے جو بلاک کی بيرونی سرحدوں کے حامل نہيں۔ ايسل بورن نے يہ بيان جرمن ريڈيو اسٹيشن ’ڈوئچ لانڈ رُنڈ فُنک‘ سے منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے ديا۔

يورپی کميشن کی خواہش ہے کہ مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں نئی يورپی بارڈر اينڈ کوسٹ گارڈ ايجنسی کے اہلکاروں کو رکن ملکوں ميں ان کی انتظاميہ کی اجازت حاصل کيے بغير تعينات کيا جاسکے۔ موجودہ قوانين کے مطابق اس سلسلے ميں متعلقہ ممالک سے اجازت طلب کرنا لازمی ہے۔

لکسمبرگ کے وزير خارجہ ژاں ايسل بورن

لکسمبرگ کے وزير خارجہ ژاں ايسل بورن

فرنٹيکس کو وسعت دينے کے سلسلے ميں آج بروز منگل ايک باقاعدہ منصوبے کا مسودہ پيش کيا جانا ہے، جس پر برسلز ميں اسی ہفتے ہونے والے سربراہی اجلاس ميں بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ مسودے کے مطابق فرنٹيکس کے اہلکاروں کی تعداد ميں چھ گنا اضافہ کيا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے جرمن ريڈيو اسٹيشن پر بات کرتے ہوئے ايسل بورن نے کہا، ’’سربیا اور مقدونيہ ميں ہميں متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ اب تک وہاں فرنٹيکس کے دستوں کی تعيناتی ممکن نہيں ہو سکی تاہم يہ مستقبل ميں ممکن ہو سکے گا۔‘‘ ان کے بقول ايسا بھی ہو سکتا ہے کہ يورپ ميں سياسی پناہ کے ناکام درخواست دہندگان کی ملک بدری کا کام بھی فرنٹيکس کو سونپا جائے۔ لکسمبرگ کے وزير خارجہ کے بقول يورپی يونين کے شينگن زون کو بچانا اسی صورت ممکن ہے کہ جب بلاک کی بيرونی سرحدوں کی نگرانی کو يقينی بنايا جائے۔

ژاں ايسل بورن نے مزيد کہا کہ بارڈر کنٹرول کرنے کے ليے چينی يا روسی دستے نہيں بھيجے جائيں گے، يہ کام يورپی رياستوں کا ہے۔ ان کے مطابق خطے اور بلاک کی حفاظت کے ليے اس مجوزہ عمل ميں ان ممالک کو بھی زيادہ فعال کردار ادا کرنا چاہيے، جو يورپی يونين کی بيرونی سرحدوں کے حامل نہيں۔