1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرعون توتان خامون کی لاش کے سنہری ماسک کی مرمت شروع

مصر میں جرمن ماہرین آثار قدیمہ کی قیادت میں فرعونوں کے خاندان کے جواں مرگ بادشاہ توتان خامون کی لاش کے چہرے پر لگے سنہری ماسک کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس فرعون کا انتقال قریب ساڑھے تین ہزار سال قبل ہوا تھا۔

default

جواں مرگ فرعون توتان خامون کا ’ڈیتھ ماسک‘

مصری دارالحکومت قاہرہ سے اتوار گیارہ اکتوبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ قدیم مصر کی انتہائی اہم اور مشہور ترین باقیات میں شمار ہونے والے اس ’ڈیتھ ماسک‘ کی مرمت اور بحالی کا کام کل ہفتے کے روز شروع کیا گیا۔

قدیم نوادرات کی مصری وزارت کی خاتون ترجمان مشیرہ موسیٰ نے آج بتایا کہ اس سنہری ماسک کو دس اکتوبر کو قاہرہ ہی میں مصری میوزیم کے اس ہال سے ایک دوسرے ہال میں منتقل کر دیا گیا، جہاں فرعون توتان خامون کی حنوط شدہ لاش کے چہرے پر لگایا جانے والا یہ طلائی ماسک اب تک نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔

اگست 2014ء میں جب قاہرہ کے ایجپشن میوزیم میں شیشے کی اس الماری کی لائٹیں مرمت کی جا رہی تھیں، جہاں یہ ماسک رکھا گیا تھا، تو اس دھاتی ماسک کا داڑھی والا حصہ ٹوٹ کر گر گیا تھا۔ تب عجائب گھر کے ملازمین نے اس ماسک کے دونوں حصوں کو گوند سے جوڑ دیا تھا اور اس کے بعد اس گوند نے ہزاروں سال پرانے اس ماسک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔

مشیرہ موسیٰ نے بتایا کہ اس ماسک کی مرمت اور بحالی کا کام جرمنی کے معروف ماہر آثار قدیمہ کرسٹیان اَیکمان کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے، جو قدیم دھاتی نوادرات کی مرمت اور بحالی کے لیے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ کرسٹیان اَیکمان نے اس سال جنوری میں تفصیلی معائنے کے بعد کہا تھا کہ اس ماسک کو کوئی خطرہ نہیں اور اسے گوند کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن ہے۔

Ägypten Pharao Tutanchamun

توتان خامون کی قبر سے ملنے والا اس کا تابوت اور اس میں بند حنوط شدہ لاش

مصر میں قدیم فراعین کے دور میں توتان خامون ایک بچے کے طور پر تخت پر براجمان ہوا تھا اور تب اس کی عمر صرف نو برس تھی۔ لیکن صرف دس سال بعد ہی محض 19 برس کی عمر میں سن 1324 قبل از مسیح میں اس کا انتقال ہو گیا تھا۔

جدید دور میں بین الاقوامی سطح پر مصری فرعون کی حیثیت سے توتان خامون کو بہت زیادہ شہرت اس وجہ سے بھی ملی کہ ماہرین کو کھدائی کے دوران اس کی قبر سے سونے کی مختلف اشیاء کی صورت میں ایسا بیش قیمت خزانہ ملا تھا، جس کی موجودگی کا پہلے نہ تو کسی کو علم تھا اور نہ ہی جسے ہزاروں برسوں میں کبھی کسی نے ہاتھ لگایا تھا۔

DW.COM