1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرسودہ روایات کی قیمت عورت کیوں ادا کرے؟

دنیا بھر میں مذہب اسلام کے بارے میں جاری مکالمت میں مسلم خواتین کا کردار ایک متنازعہ موضوع تصور کیا جاتا ہے۔

default

جہاں کچھ ناقدین مسلم خواتین پر ہونے والے تشدد اور جبر کا ذمہ دار مذہب کو ٹھہراتے ہیں وہیں دیگر مفکرین مسلمان معاشروں میں خواتین کی زبوں حالی کی وجہ مقامی ثقافت‘ روایات اور قبائلی رسم و رواج کو قرار دیتے ہیں۔

تاہم گذشتہ چند دہائیوں سے مسلمان مرد اور عورتیں مغربی دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش میں ہیں کہ اسلام بھی خواتین کے حقوق اور آزادی کا داعی ہے اور یہ کہ بیشتر اوقات یہ معاشی اور سماجی رویے ہیں جو کہ اسلام کے ساتھ منسلک کر دیے جاتے ہیں۔ کیا جدیدیت اسلام سے متصادم ہے؟ کیا اسلام میں عورتوں کے حقوق کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا؟

اسلام میں خواتین کے حقوق:

جرمن تنظیم Friedrich Ebert Foundation یا FES نے حقوق نسواں کی علمبردار مسلمان خواتین کی ایک بین الا قوامی کانفرنس کا اہتمام کولون شہر میں کیا۔ دو روزہ کانفرنس میں شریک مختلف ممالک کی مسلمان خواتین کا یہ کہنا تھا کہ پدر شاہی نظام کے اندر ہونے والی قرآنی تشریحات صرف مردوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ان خواتین نے مردانہ معاشروں میں قرآن کی تشریحات پر کڑے سوالات بھی کیے۔

کانفرنس کے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے FES کے نمائندے ڈاکٹر Johannes Kandel نے کہا:’’ ہم نے ایک ایسے فورم کا آغاز کیا جس میں حسّاس معاملات پر بحث کی جاتی ہے۔ ہم نےان خواتین کو موقع دیا ہے جن کے خیالات کو اکثر مذہبی دستاویزات کی مردانہ تفسیر کے تحت نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بہت سے مسلم ممالک میں قوانین اور پالیسیاں بھی پدر شاہی نظام کے تحت رائج ہیں اور خواتین کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔ اس بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے کے لئے ہمارا یہ تجربہ کامیاب رہا اور پچھلے سال پوری دنیا سے مسلمان خواتین نے اِس فورم میں شرکت کی ۔اس سال بھی پوری دنیا سے مسلمان خواتین یہاں موجود ہیں۔‘‘

اسلامی قوانین اور خواتین

افریقہ‘ ایشیا اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کے سماجی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان خطّوں میں رائج اسلامی قوانین میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ کئی مسلمان ممالک میں شریعت کے نام پر خواتین کو کم تر شہری حقوق دیے جاتے ہیں اور اُن کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ تاہم حقوق نسواں کی حامی مسلم خواتین کا یہ موقف ہے کہ اللہ کی نگاہ میں مرد اور عورت برابر ہیں اور مذہب اسلام میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے۔

مسلم دنیا کی خاتون سکالر ڈاکٹر آمنہ ودود پچھلے تیس سال سے اسلام میں خواتین کی اہمیت پر کام کر رہی ہیں۔آمنہ اس وقت منظر عام پر آئیں جب انہوں نے دو ہزار پانچ میں نیو یارک میں جمعے کی نماز کی امامت کروائی۔

Prof Amina Wadud Konferenz Islam Power

معروف اسکالر ڈاکٹر آمنہ ودود کولون منعقدہ کانفرنس میں مشریک تھیں

‌اس واقعے کے خلاف پوری اسلامی دنیا میں شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ وہ ورجینیا کومن ویلتھ یونیورسٹی میں اسلامیات کی استاد بھی ہیں۔ کولون منعقدہ فورم میں ڈاکٹرودود کے لیکچر کا موضوع اسلام میں تانیثیت اور عورتوں کی اہمیت تھا۔

ڈاکٹر ودود کہتی ہیں: ’’ قرآن شروع ہوتا ہے اقراء سےجس کا مطلب ہے پڑھ۔ اقراء انسانوں کے لیے ایک عظیم تبدیلی لے کر آیا۔ اسلام نے اس مخصوص وقت کی ایک تحریک کے طور پر جنم لیا جو ایک خاص زمان و مکان کے لئے تھی۔ اسلام کا یہی پیغام وقت کے ساتھ پھلا پھولا لیکن اس کا بنیادی پیغام اور اصل تحریک وقت کے ساتھ مسخ ہوتی چلی گئی۔ انسانی خوف اور کمزوری کی ناگزیرمزاحمت میں پدر شاہی نظام کو تقویت ملی اور یوں اس معاملے میں بھی اسلام کے حقیقی معنی کو تبدیل کر دیا گیا۔‘‘

خواتین اور مذہبی دستاویزات:

مسلم دنیا میں جاری اس ترقی پسند تحریک کا مقصد یہ ہے کہ خواتین اور صنفی معاملات پر مذہبی دستاویزات خصوصاً قرآن کو بنیاد بنا کر بحث مباحثہ کیا جائے۔ اس بحث میں ایسے رویوں اور رسم و رواج کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ تا ہم یہ خواتین سمجھتی ہیں کہ مذہبی دستاویزات کے نئے تراجم اورتفاسیر کے سامنے آنے سے اسلامی دنیا میں خواتین کے حوالے سے ترقی پسند قوانین تشکیل دیے جا سکتے ہیں جس کے بعد شاید مسلمان خواتین کے حالات میں بہتری آسکے۔

شریعت اور اصلاحات:

ارشاد مانجی بھی اسلامی قوانین میں اصلاحات کی بات کرتی ہیں۔ وہ برسلز میں قائم European Foundation for Democracy میں سینیر اسکالر ہیں۔ اُن کی کتاب آج اسلام میں مسائل: دیانتداری اور تبدیلی کے لئے ایک پیغام تیس ملکوں میں شائع ہو چکی ہے۔

Deutschland Islamische Frauenkonferenz in Köln

ارشاد مانجی اور عالیہ ہوگبن ایک مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے

ان کے تجزیے کے مطابق مسلم دنیا میں خواتین کو محکوم سمجھنے یا قرآن کی ان معنوں میں تشریح کرنے کی وجہ قبل از اسلام پائی جانے والی روایات ہیں جو کہ آج تک کسی نہ کسی شکل میں رائج ہیں۔

’’انسانوں کو پیدائشی طور پر برابر سمجھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تہذیبیں اور ثقافتیں بھی یکساں ہوتی ہیں۔ تہذیب انسانوں بلکہ اکثر مردوں ہی کی وضع کی ہوئی چیز ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ثقافت کوئی مقدس چیز نہیں اور ثقافت کے جابرانہ اور غیر انسانی پہلوؤں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً عزت اور آبرو کے حوالے سے قبل از اسلام کئی غیر انسانی روایات موجود تھیں جو کہ آج بھی اسلام کومنفی طور پر متاثر کر رہی ہیں۔ اِس کی قیمت لیکن عورت ادا کر رہی ہے۔‘‘

آج کے جدید دور میں جہاں اسلام کو قبائلی یا نیم قبائلی سماج کا مذہب سمجھنے والوں کی کمی نہیں ہے وہاں خود مسلمان ملکوں میں ایسے افراد بھی کم نہیں جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیے بغیر اسلام کو جدید علوم اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔

ایسے افراد ایک جانب مغربی مفکرین اور اسلام کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے طے شدہ دلائل کو تبدیل کرنے کا کام کر رہے ہیں اور دوسری جانب خود اپنے ممالک میں راسخ العقیدہ اور رجعت پسندقوتوں سے بھی نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اِنہی میں شامل ہیں آمنہ ودود اور ارشاد مانجی جیسی خواتین بھی جو اِس تصور کو غلط ثابت کرنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں کہ اسلام صرف عورتوں کو پابند رکھنے کا نام ہے۔

عالیہ ہوگبن کے ساتھ خصوصی انٹرویو:

عالیہ ہوگبن کینییڈین کونسل آف مسلم وومن کی سر براہ ہیں۔ یہ تنظیم پچھلے پچیس سال سے کینیڈا میں مقیم مسلمان خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے۔

Audios and videos on the topic