1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فردوس عاشق اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور رد عمل

سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں عمران خان اب نواز شریف اور آصف علی زرداری کے طرز سیاست کو اپنا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہی ہیں۔ انہوں نے عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات بھی کی۔ کچھ تجزیہ کاروں کی رائے میں عمران خان کا فردوس عاشق اعوان کو اپنی سیاسی جماعت میں شامل کرنا ثابت کرتا ہے کہ عمران خان نواز شریف یا آصف علی زرداری کے طرز سیاست  کو اپنا رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے رونامہ جنگ کے سینیئر صحافی فاروق اقدس نے کہا،’’فردوس عاشق اعوان کا طرز سیاست جارحانہ رہا ہے۔ انہیں سن  2012 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران وزیر اطلاعات بنایا گیا تھا۔ ایک مرتبہ انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے آنسو بہائے اور یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔‘‘ فاروق اقدس نے کہا کہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ یہ خاتون سیاسی رہنما ہر سیاسی جماعت میں شدت سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد بھی وہ ایسا ہی کریں گی جس سے نہ صرف خواتین سیاسی کارکن بلکہ عمران خان کے قریبی ساتھی بھی ان سے ناخوش ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی خالد جمیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ فردوس عاشق اعوان نے مسلم لیگ ق اس لیے چھوڑی تھی کیوں کہ یہ جماعت انہیں پارٹی ٹکٹ نہیں دے رہی تھی۔ اب دیکھنا ہو گا کہ کیا پی ٹی آئی انہیں پارٹی ٹکٹ دے گی جس کے ذریعے وہ براہ راست انتخابات میں حصہ لیں گی۔‘‘

 خالد جمیل کہتے ہیں کہ اس وقت بہت سے سیاست دان سیاسی جماعتوں کو تبدیل کرنے کا سوچ رہے ہیں لیکن وہ پاناما کیس کے فیصلے کا انتطار کر رہے ہیں۔ خالد جمیل نے کہا،’’ فردوس عاشق اعوان پاکستان پیپلز پارٹی میں آصف علی زرداری کی قیادت سے خوش نہیں تھیں۔ انہیں توقع تھی کہ بلاول بھٹو زرداری شاید کوئی اہم کردار ادا کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘‘

سوشل میڈیا پر کئی افراد نے  فردوس عاشق اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت پر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا  جب کہ کچھ کی رائے میں یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔