1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

فربہ ترین خاتون، 300 کلو وزن کم کرنے کے بعد ہسپتال سے فارغ

مصر سے تعلق رکھنے والی دنیا کی فربہ ترین خاتون کو 300 کلوگرام وزن کی کمی کے بعد بھارت کے ایک ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ ان کا مزید علاج اب ابوظہبی میں ہو گا۔

37 سالہ ایمان احمد العاطی کا وزن بڑھتے بڑھتے 500 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا اور وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے اپنے گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں۔ مصر کے بندرگاہی شہر اسکندریہ سے تعلق رکھنے والی ایمان احمد کو رواں برس 11 فروری کو علاج کے لیے بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی لایا گیا تھا، جہاں سیفی ہسپتال میں ان کا علاج کیا گیا۔ خیال رہے کہ اُس وقت دنیا کی فربہ ترین خاتون سمجھی جانے والی ایمان احمد العاطی کو بھارت لانے کے لیے ایئربس کے ہوائی جہاز میں خصوصی طور پر رد وبدل کیا گیا تھا۔

Ägypten Eman Ahmed Operation in Indien (picture-alliance/Egyptair)

ایمان احمد العاطی کو بھارت لانے کے لیے ایئربس کے ہوائی جہاز میں خصوصی طور پر رد وبدل کیا گیا تھا

ایمان بچپن سے ہی ایلیفنٹیاسس (elephantiasis) نامی ایک بیماری کا شکار تھیں، جس میں جسم کے اعضاء سوزش کا شکار ہو جاتے ہیں اور اسی باعث وہ بہت ہی کم حرکت کر سکتی تھیں۔ اپنے مسلسل بڑھتے وزن کے سبب وہ بہت سی دیگر طبی پیچیدگیوں کا بھی شکار تھیں۔ ایمان کی بہن نے گزشتہ برس اکتوبر میں وزن میں کمی لانے والی سرجری کے ماہر بھارتی ڈاکٹر مفضل لکڑ والا سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ ان کی بہن کو فوری طور پر علاج کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں نے منگل سات مارچ کو ایمان احمد کی ’’لیپرواسکوپک سلییو گیسٹریکومی‘‘ نامی سرجری کی تھی۔ ڈاکٹر مفضل لکڑ والا نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ متعدد آپریشنوں کے بعد ایمان احمد کا وزن اب 200 کلوگرام سے کم ہو چکا ہے۔ تاہم انہیں ابھی مزید سرجری کی ضرورت ہے تاکہ وہ  دوباہ چلنے کے قابل ہو سکیں۔

Ägypten Eman Ahmed, die schwerste Frau der Welt (picture-alliance/dpa/Family Handout)

37 سالہ ایمان احمد العاطی کا وزن بڑھتے بڑھتے 500 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا اور وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے اپنے گھر سے باہر نہیں نکلی تھی

لکڑ والا کے مطابق ’’ان کی ہڈیوں کا سٹرکچر کمزور ہے، اور کئی برسوں سے ہڈیوں پر وزن نہ پڑنے کے باعث یہ مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ گھٹنوں اور کولہے کی ہڈیوں کو طاقتور بنانے کے لیے انہیں متعدد آپریشنوں سے گزرنا ہو گا۔‘‘

بھارتی میڈیا کے مطابق تاہم ایمان احمد کا خاندان ان کے ممبئی کے سیفی ہسپتال میں علاج سے خوش نہیں تھا اور ان کے ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس معاملے کی وضاحت کے لیے ایمان احمد کے خاندان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔