1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس کے سابق صدر شیراک کو سزائے قید

فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی ایک عدالت نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں آج جمعرات کو سابق صدر ژاک شیراک کو دو سال کی معطل سزائے قید کا حکم سنا دیا۔

default

اس عدالت کے ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر کے خلاف یہ الزامات ثابت ہو گئے ہیں کہ انہوں نے عوام کی ملکیت مالی وسائل میں غبن اور دھوکہ دہی کر کے یہ رقوم غیر قانونی طور پر اپنی قدامت پسند سیاسی پارٹی کو فراہم کیں۔

عدالت کے مطابق ژاک شیراک نے خود پر کیے جانے والے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کیا۔ وہ اس دھوکہ دہی کے مرتکب 1990 اور 1995 کے درمیانی عرصے میں اس وقت ہوئے جب وہ پیرس کے میئر تھے۔

Frankreich Präsident Chirac Prozess Korruption

عدالت کے مطابق ژاک شیراک کا یہ رویہ فرانسیسی ٹیکس دہندگان کی ادا کردہ رقوم میں سے 1.4 ملین یورو یا 1.8 ملین امریکی ڈالر کے برابر مالی وسائل کے غیر قانونی استعمال کی وجہ بنا۔ انہوں نے یہ عوامی رقوم ناجائز طور پر اپنی قدامت پسند جماعت کو اس وقت فراہم کیں جب وہ اس پارٹی کے سربراہ بھی تھے۔

سابق صدر شیراک کی عمر اس وقت 79 برس ہے۔ انہیں ایک ایسا عالمی سفارت کار سمجھا جاتا ہے جس نے کئی عشروں تک فرانس میں حکمران اشرافیہ کی نمائندگی کی۔ اس مقدمے میں ژاک شیراک کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے سے طبی وجوہات کی بناء پر مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔

قدامت پسند ژاک شیراک کو دو سال کی معطل سزائے قید سنائی گئی ہے، اس لیے انہیں جیل نہیں جانا پڑے گا۔ تاہم ان کے خلاف سزائے قید کے اس عدالتی فیصلے کی تاریخی نوعیت اپنی جگہ ہے۔ وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جدید فرانس کے ایسے پہلے سابق صدر ہیں جنہیں اپنے خلاف عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان سے پہلے دوسری عالمی جنگ کے دور میں نازی جرمن رہنماؤں کے ساتھ فرانس پر قبضے کے دوران اشتراک عمل کے مرتکب فرانسیسی لیڈر Philippe Petain کو بھی اقتدار سے علیحدگی کے بعد بغاوت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان الزامات میں انہیں عدالت نے قصور وار بھی قرار دے دیا تھا۔ ان سے پہلے سن 1793 میں فرانس کے آخری بادشاہ لوئی شانزدہم کو انقلاب فرانس کے بعد موت کی سزا دے دی گئی تھی۔

Frankreich Jacques Chirac Prozess

آج جمعرات کو ژاک شیراک کا قصور وار قرار دیا جانا کافی غیر متوقع تھا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق شیراک ابھی بھی فرانس کی مقبول ترین عوامی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور اس مقدمے میں استغاثہ تک نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں بری کر دیا جائے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی عوام کی ایک بڑی تعداد اس سابق سربراہ مملکت کو ان کی طرف سے بدعنوانی کی طویل تاریخ کے باوجود زیادہ تر معاف کر چکی ہے۔

ژاک شیراک 1995ء سے لے کر 2007ء تک فرانس کے صدر رہے تھے۔ صدارتی عہدے کی مدت کے دوران انہیں اپنے خلاف قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل تھا۔ وہ اپنے خلاف ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں یہ مقدمہ کرپشن کے ان کئی اسکینڈلز میں سے ایک کا نتیجہ ہے، جن کا شیراک کو اپنے پبلک کیریئر کے دوران متعدد مرتبہ سامنا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ژاک شیراک کو اس وقت اعصابی نوعیت کے شدید طبی مسائل کا سامنا ہے اور ان کی مختلف باتوں کو یاد رکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: حماد کیانی

DW.COM