1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس کی مالی حالت بھی يورو زون کے ليے خطرہ

يورو زون کے ملکوں ميں سے فرانس کو کريڈٹ ريٹنگ ميں اے کيٹيگری کے اعلٰی ترين گروپ سے نکا لے جانے کا سب سے زيادہ خطرہ ہے۔ اس گروپ کے تمام ملکوں کے مقابلے ميں فرانس سب سے زيادہ مقروض ہے۔

صدر سارکوزی کابينہ کے اجلاس ميں

صدر سارکوزی کابينہ کے اجلاس ميں

فرانس کی قومی بجٹ کی وزير پيکريس نے ملک کی کريڈٹ ريٹنگ يعنی قرضے لينے کی اہليت اعلٰی ترين ٹرپل اے سطح سے کم ہوجانے کے خطرے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’ہماری تين اے والی کريڈٹ ريٹنگ برسوں کی محنت کا نتيجہ ہے۔ ہم نے اصلاحات کی ہيں۔ ہم صرف ہر دوسرے افسر کی جگہ ايک نيا افسر مقرر کر رہے ہيں۔ ہم نے رياستی اخراجات کو منجمد کر ديا ہے اور پينشن کی عمر بڑھا دی ہے۔ ان تمام باتوں نے فرانس کو زيادہ قابل اعتماد اور با اعتبار بنا ديا ہے۔‘‘

کريڈٹ ريٹنگ ايجنسی

کريڈٹ ريٹنگ ايجنسی

ليکن اس پر خود فرانسيسی عوام بھی اعتبار نہيں کرتے۔ ايک حاليہ سروے کے مطابق 88 فيصد سے زائد فرانسيسی يہ سمجھتے ہيں کہ فرانس بھی ديواليہ ہو سکتا ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ فرانس کی پوزيشن ٹرپل اے کريڈٹ ريٹنگ والے ملکوں کے اعلٰی کلب ميں سب سے زيادہ کمزور ہے۔ اُس کے بجٹ کا خسارہ سب سے زيادہ ہے اور وہ سب سے زيادہ مقروض بھی ہے۔ Standard and Poor s نامی ريٹنگ ايجنسی نے جون ہی ميں پہلی وارننگ دے دی تھی کہ اگر فرانس اپنے بجٹ کو بہتر بنانے ميں کامياب نہ ہوا تو اس کی کريڈٹ ريٹنگ گھٹا دی جائے گی۔

کريڈٹ ريٹنگ ايجنسی موڈيز

کريڈٹ ريٹنگ ايجنسی موڈيز

فرانسيسی اقتصادی صحافی نکو لاس دوز کا کہنا ہے کہ فرانس پر 1600 ارب يورو کا قرض ہے جو کہ مجموعی قومی پيداوار کا 85 فيصد ہے اور اس طرح فرانس پہلے ہی سے بہترين نمبر پانے کا اہل نہيں رہا۔ ليکن ريٹنگ ايجنسيوں اور حکومت ميں ايک سمجھوتہ ہے کہ 2012 کے صدارتی انتخابات سے قبل فرانس کی کريڈٹ ريٹنگ کو کسی قيمت پر نہ گھٹايا جائے تاکہ سارکوزی کا دوبارہ صدر منتخب ہونا خطرے ميں نہ پڑے۔

اگر فرانس کی کريڈٹ ريٹنگ کم ہوتی ہے تو يورو کو بچانے کا يورپی فنڈ بھی خطرے کی زد ميں آ جائے گا۔ اقتصادی تحقيق کے جرمن انسٹيٹيوٹ کو تو يہ تک خطرہ ہے کہ اگر فرانس کی کريڈٹ ريٹنگ کم ہوگئی تو يورو زون ٹوٹ سکتا ہے۔

رپورٹ: ايوی زائبرٹ، پيرس/ شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM