1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس کی طرف سے الرقہ پر دوسرے روز بھی بمباری

فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے آج منگل کے روز بھی شام کے شمالی حصے میں دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ ادھر پولیس نے پیرس حملوں میں ملوث افراد کی تلاش میں گزشتہ شب ملک بھر میں 128 مقامات پر چھاپے مارے۔

فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے شام میں مضبوط گڑھ الرقہ میں اس تنظیم کے کمانڈ سینٹر اور ایک ریکروٹمنٹ سینٹر کو نشانہ بنایا۔ فرانسیسی ملٹری کمانڈ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ملکی صدر فرانسوا اولانڈ کی طرف سے داعش کے خلاف حملوں کا حکم دیے جانے کے بعد یہ مسلسل دوسری رات تھی جب شامی شہر الرقہ میں اس گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں میں 10 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا جنہوں نے متحدہ عرب امارات اور اردن سے پرواز بھری۔ فرانسیسی دفاعی حکام کے مطابق امریکا نے انٹیلیجنس شیئرنگ کا سلسلہ بڑھا دیا ہے تاکہ پیرس کو اس دہشت گرد گروپ سے متعلق واضح اہداف تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔

حملوں میں مشتبہ مطلوب ترین شخص بیلجیئم میں پیدا ہونے والا فرانسیسی شہری 26 سالہ صلاح عبدالسلام ابھی تک مفرور ہے

حملوں میں مشتبہ مطلوب ترین شخص بیلجیئم میں پیدا ہونے والا فرانسیسی شہری 26 سالہ صلاح عبدالسلام ابھی تک مفرور ہے

ادھر فرانس کے اندر ملکی پولیس نے پیر اور منگل 17 نومبر کی درمیانی شب ان دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے والے افراد کی تلاش میں 128 چھاپے مارے۔ جمعہ 13 نومبر کی شام پیرس میں ہونے والے مختلف دہشت گردانہ حملوں میں مجموعی طور پر 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ بیرنار کازینوو کے مطابق پولیس نے یہ چھاپے ملک کے مختلف حصوں میں مارے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ان خونریز حملوں کے سلسلے میں جاری تفتیشی عمل میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

ان حملوں میں مشتبہ مطلوب ترین شخص بیلجیئم میں پیدا ہونے والا فرانسیسی شہری 26 سالہ صلاح عبدالسلام ہے جو ابھی تک مفرور ہے۔ یہ شخص ہفتے کی صبح پیرس سے واپس بیلجیئم چلا گیا تھا۔ اس شخص کی تلاش میں بیلجیئم کی پولیس دارالحکومت برسلز کے علاقے مولنبیئک میں تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ عبدالسلام اپنے دو بھائیوں کے ساتھ اس علاقے میں رہائش پزیر تھا۔

پیرس حملوں کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی جس سے ملکی سکیورٹی فورسز کو اس بات کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ مشتبہ افراد کی تلاش میں وارنٹ کے بغیر کسی بھی جگہ کی تلاشی لے سکتی ہیں اور گرفتاریاں کر سکتی ہیں۔

فرانسیسی صدر آج پیرس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں وہ اپنا یہ مطالبہ دہرائیں گے کہ امریکا اور روس کو شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑنے کے لیے ایک بڑے عالمی اتحاد کا حصہ بننا چاہیے۔ صدر اولانڈ گزشتہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ فرانس حالت جنگ میں ہے۔