1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس کی جانب سے القاعدہ کے مطالبات مسترد

فرانس نے شمالی افریقہ میں پانچ فرانسیسی شہریوں کو یرغمال بنانے والے القاعدہ گروپ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ پیرس حکومت اِن کی رہائی کے لئے اُسامہ بن لادن کے ساتھ مذاکرات کرے اور افغانستان سے فوجی دستے واپس بلا لے۔

default

فرانسیسی یرغمالیوں کا گروپ فوٹو

ان مطالبات کا ذکر القاعدہ کی شمالی افریقی شاخ (AQIM) کے سربراہ عبدالملک درودکال نے جمعرات کو ایک آڈیو پیغام میں کیا تھا۔ جواب میں آج جمعہ کو نئی فرانسیسی وزیر خارجہ مشیل آلیو ماری نے ایک بیان میں کہا کہ ’فرانس یہ بات قبول نہیں کر سکتا کہ باہر سے کوئی اُس پر اپنی مرضی مسلط کرے‘۔

اِس آڈیو پیغام میں کہا گیا تھا کہ ستمبر میں نائیجر میں یرغمال بنائے جانے والے ان فرانسیسی شہریوں کی رہائی کے لئے فرانس کو ذاتی طور پر بن لادن کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان یرغمالیوں کو، جن میں ٹوگو اور مدغاسکر سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی شامل ہیں، افریقی ریاست مالی میں کہیں رکھا گیا ہے۔

Frankreich Michele Alliot-Marie

نئی فرانسیسی وزیر خارجہ مشیل آلیو ماری

عرب سیٹیلائٹ نیٹ ورک الجزیرہ سے نشر ہونے والی اس ریکارڈنگ میں فرانس پر زور دیا گیا تھا کہ اُسے جلد از جلد سرکاری طور پر ٹائم ٹیبل کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان سے اپنے فوجی دَستے واپس بلا لینے چاہئیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ آلیو ماری نے کہا کہ ’یرغمالی جہاں کہیں بھی ہیں، فرانس اُن کی خیریت کے ساتھ رہائی کے لئے تمام تر ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہا ہے‘۔

درودکال نے، جو ابومصعب عبدالودود بھی کہلاتا ہے، اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’اِس موضوع پر کسی بھی طرح کے آئندہ مذاکرات صرف اور صرف اُسامہ بن لادن کے ساتھ اور اُنہی کے شرائط کے ساتھ ہوں گے‘۔

منگل کو فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے کہا تھا کہ وہ اِن یرغمالیوں کے حوالے سے، جو کہ ایک بڑی جوہری کمپنی Areva کے لئے کام کرتے ہیں، ’خاص طور پر فکر مند‘ ہیں لیکن یہ کہ دھمکیوں سے فرانس کی پالیسیوں کو نہیں بدلا جا سکے گا۔

Österreichische Geiseln in Al Kaida Gefangenschaft in Nordafrika Tunesien Algerien 2008

2008ء میں شمالی افریقہ میں یرغمال بنائے جانے والے آسٹریا کے دو سیاح القاعدہ کے ارکان کی قید میں

اکتوبر کے اواخر میں الجزیرہ سے بن لادن کا ایک پیغام نشر ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس افغانستان سے اپنے 3,750 فوجی واپس نہ بلاتے ہوئے اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرے گا۔ بن لادن نے تب کہا تھا کہ فرانس کو اپنے ان شہریوں کے اغوا کے واقعے کو ایک انتباہ کے طور پر لینا چاہئے اور یہ کہ فرانس میں عوامی مقامات پر مسلمان خواتین کے لئے حجاب پہننے کی پابندی اپنے شہریوں کے خلاف تشدد کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو فرانس نے پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ شمالی افریقہ کے یرغمال کنندگان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ نئے فرانسیسی وزیر دفاع الاں شُوپے نے مزید تفصیلات کا ذکر کئے بغیر ریڈیو یورپ وَن کو بتایا تھا کہ فرانس بلاشبہ یرغمال کنندگان کے ساتھ ’ہر قسم کے رابطے‘ رکھے ہوئے ہے۔

اِس سال جولائی میں AQIM نے کہا تھا کہ اُس نے فرانس اور موریطانیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر فرانسیسی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے کی جانے والی اُس کوشش کے بعد ایک یرغمالی مشیل ژیرمانو کو ہلاک کر دیا ہے، جس کے دوران القاعدہ کی اِس شمالی افریقی شاخ کے 6 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس