1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس نے بھی شام پر فضائی حملے شروع کر دیے

شام اور عراق میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اب فرانس بھی شامل ہو گیا ہے۔ اب تک فرانسیسی طیارے صرف عراق میں حملے کر رہے تھے لیکن اتوار کے روز پہلی بار شام میں بھی حملے کیے گئے۔

فرانسیسی دارالحکومت سے اتوار ستائیس ستمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں پیرس میں ملکی صدر فرانسوا اولانڈ کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آج اتوار کو ملکی جنگی طیاروں نے پہلی مرتبہ شام کے ریاستی علاقے میں اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔

فرانسیسی فضائیہ گزشتہ قریب تین ہفتوں سے شام میں داعش کے ٹھکانوں کی جاسوسی جاری رکھے ہوئے تھی۔ صدارتی دفتر کے بیان کے مطابق آج کیے جانے والے حملوں میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کی نشاندہی جاسوس پروازوں کے نتیجے میں کی گئی تھی۔ یہ فضائی جاسوسی آٹھ ستمبر کو شروع کی گئی تھی۔

بیان کے مطابق، ’’فرانسیسی طیاروں سے یہ حملے خطے میں پیرس کے اتحادیوں کے ساتھ مربوط تعاون کے نتیجے میں کیے گئے اور فرانس آئندہ بھی ہر اس وقت ایسے حملے کرے گا جب اس کی قومی سلامتی خطرے میں ہو گی۔‘‘

فرانس نے اسی مہینے اپنے ایک سرکاری اعلان میں کہا تھا کہ پیرس کے فوجی دستے شام میں زمینی کارروائیوں میں کوئی حصہ نہیں لیں گے لیکن اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے جانے والے فرانسیسی فضائی حملوں کی وجہ پیرس کی ’اپنے دفاع کی جائز خواہش‘ ہو گی۔

Paris Hollande PK Anti ISIS Bombardements

جب بھی فرانس کی قومی سلامتی خطرے میں ہوئی، حملے کیے جائیں گے، صدر اولانڈ

اس سے قبل فرانسیسی جنگی طیاروں کی طرف سے ہمسایہ ملک عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کافی عرصے سے کیے جا رہے ہیں لیکن شام میں یہ پہلا موقع ہے کہ پیرس نے اسلامک اسٹیٹ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

صدر اولانڈ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’شامی تنازعے کی وجہ سے پیدا ہونے والے انتشار کا جامع جواب دیا جانا چاہیے۔ شہری آبادی کو ہر قسم کی اس خونریزی سے بچایا جانا چاہیے، جو چاہے دولت اسلامیہ کی طرف سے کی جائے یا دیگر دہشت گرد گروپوں کی طرف سے یا پھر شامی صدر بشار الاسد کے دستوں کی طرف سے قاتلانہ بمباری کی صورت میں۔‘‘

DW.COM