1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرانس میں کوئی مہاجر کیمپ نہیں رہے گا، فرانسیسی صدر

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نےغیر قانونی نقل مکانی کا مقابلہ کرنے اور ساحلی شہر کیلے کے قریب قائم مہاجر بستی’جنگل‘ کے خاتمے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ صدر اولانڈو کا کہنا تھا کہ فرانس میں کوئی مہاجر کیمپ نہیں رہے گا۔

Paris Rede Francois Hollande (picture-alliance/AP Photo/C. Ena)

 صدر اولانڈ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سیاسی پناہ کی درخواست دائر کرنے والوں کے لیے باوقار طریقے سے مدد فراہم کرے گی

فرانسیسی صدر نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ فرانس میں جنگل مہاجر بستی جیسے مزید کیمپوں کے قیام کو روکا جائے گا۔ صدر اولانڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے،’’ فرانس میں کوئی کیمپ نہیں ہو گا‘‘۔ یاد رہے کہ یہ بیان انہوں نےکیلے شہر کے قریب قائم مہاجر کیمپ کے اپنے پہلے دورے سے دو روز قبل دیا ہے، جہاں سات ہزار سے دس ہزار تارکین وطن قیام پذیر ہیں۔ اولانڈ کی حکومت نے فرانس کے ساحلی شہر کیلے کے قریب قائم ’جنگل ‘ نامی مہاجر بستی کو موسمِ سرما سے قبل ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں ابتدائی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

 مہاجرت کا بحران  اولانڈ کے چار سالہ دورِ صدارت میں کم اہمیت کے حامل مسئلوں میں سے ایک رہا ہے۔ تاہم  فرانسیسی صدر کے قدامت پسند پیش رو نکولا سارکوزی اور انتہائی دائیں بازو کی رہنما مارین لے پین نے ان پر دباؤ ڈال کر انہیں مہاجرین کے مسئلے پر واضح مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ دونوں سیاستدان آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاری کی ابتدائی مہم میں سلامتی، حب الوطنی اور قومی مفاد کے موضوعات کو فروغ دے رہے ہیں۔

Frankreich Flüchtlingslager Jungle in Calais (Getty Images/AFP/P. Huguen)

اولانڈ کی حکومت نے فرانس کے ساحلی شہر کیلے کے قریب قائم ’جنگل ‘ نامی مہاجر بستی کو موسمِ سرما سے قبل ختم کرنے کا اعلان کیا ہے

 صدر اولانڈ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سیاسی پناہ کی درخواست دائر کرنے والوں کے لیے باوقار طریقے سے مدد فراہم کرے گی۔ فرانسیسی صدر نے مزید کہا،’’جن پناہ گزینوں کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں انہیں فرانس سے جانا ہو گا۔ یہاں قوانین لاگو ہوتے ہیں اور تارکین وطن اس سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘ صدر اولانڈ نے کہا کہ فرانس اس سال اسی ہزار مہاجرین کو پناہ دے گا۔ جرمنی کے مقابلے میں یہ تعداد بہت کم ہے۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے شورش زدہ ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں پناہ کے متلاشی بحیرہ روم کے ذریعے یورپ پہنچ چکے ہیں اور مزید یہاں آنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین وسطی اور شمالی یورپ کے ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کی پہلی منزل جنوبی یورپی ممالک ہوتے ہیں۔