1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرانس میں لاوارث مہاجر بچے، ’جنسی زیادتی، استحصال کے خطرات‘

فرانس کے شمالی ساحلی علاقے میں پھنسے مہاجر بچوں کو جنسی زیادتی اور استحصال کے ’مستقل خطرات‘ کا سامنا ہے۔ یونیسیف نے پیرس حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مہاجر بچوں کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی فرانس کے ساحلی علاقوں میں پناہ حاصل کرنے والے مہاجر بچوں کو مستقل خطرات لاحق ہیں اور انہیں خصوصی تحفظ فراہم دینے کے لیے پیرس حکومت کو فوری انتظامات کرنا چاہییں۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ مہاجر کیمپوں میں بچوں کے لیے حفاظتی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

DW.COM

یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں پناہ گزین مہاجر بچے رات کو اور دن ڈھلنے کے بعد باہر نہیں نکلتے کیونکہ انہیں جنسی زیادتی کا شکار ہو جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ لاوارث مہاجر بچوں کی حالت زار پر مرتب کی گئی اس رپورٹ کے مطابق ایسے بچے انتہائی بری صورتحال میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

یونیسیف کی اس تازہ رپورٹ کی تیاری کی خاطر جنوری تا اپریل فرانس کے شمالی علاقوں کَیلے اور نارمنڈی میں قائم کردہ مہاجر بستیوں سے حقائق جمع کیے گئے۔ اس علاقے میں کم ازکم پانچ سو مہاجر بچے ایسے ہیں، جو اپنے والدین سے جدا ہو چکے ہیں۔

نوے صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان مہاجر بستیوں میں بالخصوص افغان بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے کیونکہ ’افغانستان میں ایسے واقعات عام ہیں‘۔ مہاجرین سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق لڑکوں کو جنسی زیادتی کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔

اسی طرح اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہاجر بچیوں اور لڑکیوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کا امکان بہت زیادہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ان سے زبردستی جسم فروشی کرائے جانے کا بھی خدشہ ہے۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو اس صورتحال سے نمٹنے کی خاطر فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کی رپورٹ میں مہاجر بچوں کو جنسی زیادتی اور استحصال کا شکار بنائے جانے کے خطرات سے خبردار کرنے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بچے نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق کَیلے اور نارمنڈی میں موجود زیادہ تر بچوں کو فوری نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔

Frankreich Flüchtlingskinder in Calais

اس علاقے میں کم ازکم پانچ سو مہاجر بچے ایسے ہیں، جو اپنے والدین سے جدا ہو چکے ہیں

رپورٹ کے مطابق، ’’جن بچوں سے انٹرویوز کیے گئے، ان سب نے شدید سردی اور تھکن کی بھی شکایت کی۔‘‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کیمپوں میں مہاجرین کی مدد کی خاطر رضا کاروں اور حکومتی اداروں میں رابطہ کاری مؤثر نہیں ہے، جس کی وجہ سے بہت سے انتظامی مسائل بھی پائے جاتے ہیں۔

فرانس کے شمالی ساحلی علاقوں میں موجودہ صورتحال میں بہتری کی خاطر دی جانے والی تجاویز میں یونیسیف نے زور دیا ہے کہ بچوں کے لیے خصوصی حفاظتی مراکز کا قیام ممکن بنایا جائے۔ مزید یہ کہ بچوں کے لیے نفسیاتی مدد، تربیت، تعلیم اور صحت جیسی مراعات کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔