1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس میں سات مشتبہ مسلمان شدت پسندوں کی گرفتاری

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد یورپی ملکوں میں سکیورٹی کا لیول الرٹ رکھا گیا ہے اور اسی باعث فرانسیسی پولیس نے مختلف چھاپوں میں سات مشتبہ شدت پسندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ سمیت یورپی ملکوں کی طرح فرانس میں بھی سکیورٹی سخت رکھی گئی ہے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کی وجہ سے مختلف چھاپوں میں پیر کے روز چھ مسلمان شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا۔ ساتواں مشتبہ شخص منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔ منگل کے روز حراست میں لیا جانے والا شخص شمالی افریقی ملک الجزائر سے چند روز قبل فرانس پہنچا تھا۔ الجزائر سے پہنچنے والے شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بھارتی شہری ہے۔

ان گرفتاریوں کے تناظر میں فرانس کے وزیر داخلہ Claude Gueant کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ افراد فرانس کے اندر کسی دہشت گردانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ کے مطابق سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے بہت چوکنا ہیں اور یہ گرفتاریاں کسی ممکنہ جہادی خطرے سے نمٹنے کے حوالے سے بھی ہو سکتی ہیں۔

BdT Jeudi Noir squat

گرفتاریوں کے بعد فرانسیسی حکام نے انکوائری کا عمل شروع کردیا ہے

گرفتاریوں کے بعد فرانسیسی حکام نے انکوائری کا عمل شروع کردیا ہے۔ پیر کے روز پیرس کے نواح میں واقع مہاجرین کے دو بڑے علاقوں میں پولیس نے کارروائی کی۔ ان علاقوں کے نام Stains اور Garges-les-Gonesse ہیں۔ چھ افراد انہی دو علاقوں سے شبے کی بنیاد پر حراست میں لیے گئے۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی کا مرکزی کردار بھارتی شہری ہے، جسے منگل کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس چھاپوں میں فرانس کے خفیہ ادارے بھی شامل تھے۔ انہی کی نشاندہی پر گرفتاریاں کی گئیں۔ یہ لوگ فرانس کی مرکزی خفیہ ایجنسی DCRI کے صدر دفتر میں قید ہیں۔ خفیہ ادارے کا صدر دفتر پیرس کے نواحی علاقے Levallois میں واقع ہے۔

فرانسیسی حکام نے AFP کو بتایا کہ گرفتار افراد میں سے بعض حال ہی جنگی علاقوں سے لوٹے ہیں۔ ان کی گرفتاری، انٹرنیٹ پر ان کے ای میل یا رابطوں تک رسائی کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ افراد شدت پسندوں کے بھرتی کے نیٹ ورک سے بھی وابستہ ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس