فرانس میں دو با حجاب ماؤں کو اسکول سے باہر نکال دیا گیا | معاشرہ | DW | 06.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانس میں دو با حجاب ماؤں کو اسکول سے باہر نکال دیا گیا

فرانسیسی جزیرے کورسیکا میں پیر کے روز ایک اسکول میں اسکارف پہنی دو مسلم خواتین کو اسکول سے باہر نکال دیا گیا۔ یہ واقعہ فرانس سے میں برقعے اور حجاب کے حوالے سے بڑھتے تنازعے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب والدین اپنے بچوں کو چھٹیوں کے بعد اسکول چھوڑنے آ رہے تھے۔ اسکارف پہنی دو مسلمان خواتین کے مطابق ان کو دو مردوں نے روک لیا۔ یہ دو مرد، جو آپس میں بھائی تھے، کہنے لگے کہ یہ بات درست نہیں کہ ان کے بچوں کو تو اپنی مذہبی علامات زیب تن کر کے اسکول جانے کی اجازت نہیں، تو پھر یہ خواتین اسکارف پہنے اسکول کیسے آ گئیں؟

شہر کے میئر کے مطابق افسران نے اسکول میں داخلے کے اصولوں کے مطابق کارروائی کی۔ پولیس اور اسکول انسپکٹر واقعے کی جگہ پر پہنچ گئے تاکہ حالات قابو میں رکھے جا سکیں۔ میئر کا کہنا تھا کہ کوئی پر تشدد واقعہ پیش نہیں آیا، نہ کوئی دھمکی دی گئی، اور کوئی قانون نہیں توڑا گیا۔

جہاں فرانس کے اسکولوں میں اساتذہ اور طالبعلموں پر مذہبی لباس پہننے پر پابندی ہے، ایسی کو قدغن والدین پر نہیں ہے۔ تاہم یہ نیا واقعہ فرانس میں برقعے اور حجاب کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کی جانب توجہ دلاتا ہے۔

حال ہی میں جنوبی فرانس کے علاقے نیس میں انتظامیہ نے خواتین کے برقینی پہن کو ساحل سمندر پر جانے پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم بعد ازاں اس کو ایک عدالت کے حکم نامے کے تحت منسوخ کر دیا گیا تھا۔

جرمنی میں بھی اس حوالے سے مباحثہ جاری ہے۔ حال ہی میں کروائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق جرمن عوام کی اکثریت سر تا پا برقعے کے خلاف ہیں۔ اس حوالے سے بہت سی ریاستوں کے وزرائے خارجہ برقعے پر مکمل پابندی کی تائید کر چکے ہیں۔