1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس میں بین المذاہب اتحاد کا انوکھا مظاہرہ

فرانسیسی صدر نے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں مذہبی رواداری کا بھرپور پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ صدر اولانڈ نے مختلف مسیحی فرقوں، مسلمانوں، یہودیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے نمائندوں کو اپنے ہاں مدعو کیا۔

فرانسیسی صدر کی طرف سے بُدھ کو پیرس میں اپنی سرکاری رہائش گاہ میں منعقد کردہ اس غیر معمولی ملاقات کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ مختلف مذاہب کے درمیان امن و آشتی، رواداری اور ہم آہنگی فرانسیسی معاشرے کے اتحاد کے لیے ناگزیر ہے۔

DW.COM

اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی صدر اولانڈ کے نام اپنے ایک ٹیلی گرام میں فرانسیسی چرچ پر حملے اور ایک کیتھولک پادری کے قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ جاری رکھی جائے گی۔

بین المذاہب اتحاد اور یکجہتی کی علامت کے طور پر پیرس میں اولانڈ کے ایماء پر یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا جب فرانسیسی صدر اور اُن کے وزراء کو فرانس کے قدامت پسند حلقوں کی طرف سے 14 جولائی کو فرانسیسی شہر نیس میں فرانس کے قومی دن کے موقع پر منائی جانے والی تقریب کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کے ضمن میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُس واقعے میں ایک شخص نے اپنا ٹرک لوگوں کے ایک ہجوم پر چڑھا دیا تھا، جس کے نتیجے میں 84 افراد ہلاک ہو گئے۔

رومانس، خوشبوؤں اور زندگی سے بھرپور روشنیوں کا ملک کہلانے والا فرانس کچھ عرصے سے دہشت گردی کی زد میں ہے۔ اس سلسلے کے تازہ ترین واقعے میں منگل چھبیس جولائی کو دو عسکریت پسندوں نے ایک کلیسا پر حملہ کر کے کئی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حملہ آوروں نے ایک پادری کا گلا کاٹ دیا تھا اور بعد میں وہ خود بھی ایک کمانڈو آپریشن میں مارے گئے۔

ان حملہ آوروں میں سے ایک ایک معروف مبینہ جہادی تھا، جو ایک طویل عرصے سے سخت نگرانی میں تھا اور اپنے خلاف مقدمے کا منتظر تھا۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد اولانڈ کی سوشلسٹ حکومت کو ملکی لاء اینڈ آرڈر کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال کے سلسلے میں غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے۔

قصر الیزے یا صدارتی محل میں ہونے والی بین المذاہب ملاقات میں کارڈینل، آرچ بشپ آندرے فنگ ترو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ ہم کسی صورت داعش یا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمیں اپنی سیاست میں گھسیٹے۔ اس جہادی گروپ کی کوشش ہے کہ مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے مگر ایک ہی خاندان کے مانند کنبے کے افراد کو ایک دوسرے کے خلاف لڑواتا رہے۔‘‘

دریں اثناء فرانس کے سابقہ صدر نکولا سارکوزی نے، جن سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ برس فرانس میں مجوزہ صدارتی انتخابات کی پرائمریز میں قدامت پسند سیاسی جماعت کی طرف سے مقابلے کی دوڑ میں حصہ لیں گے، سوشلسٹ لیڈر اور موجودہ صدر اولانڈ پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی ہے۔

ساکوزی کے بقول، ’’جنوری 2015ء سے اب تک ہونے والے تمام تشدد کے واقعات اور بربریت نے فرانس کی بائیں بازو کی سیاست کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے‘‘۔ اخبار لے مونڈ کو ایک بیان دیتے ہوئے سارکوزی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی نے ملک کی اس سیاسی سوچ کو حقیقت سے دور کر دیا ہے۔

سارکوزی نے تمام مشتبہ مسلم دہشت گردوں، جن میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے کوئی مجرمانہ عمل نہیں کیا، کی گرفتاری یا ان کی الیکٹرونک ٹیگنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ فرانس کی داخلہ سکیورٹی سروس نے حفیہ ’ایس فائلیں‘ محفوظ کر رکھی ہیں جس میں لگ بھگ ساڑھے دس ہزار مشتبہ یا ممکنہ جہادیوں کا ریکارڈ موجود ہے تاہم فرانسیسی وزیر داخلہ نے مشتبہ جہادیوں کو جیل میں ڈال دینے کے سارکوزی کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے اس عمل کو غیر آئینی اور نقصان دہ قرار دیا ہے۔