1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانس میں بھی کثیر الثقافتی پالیسیاں ناکام

فرانس کے صدر سارکوزی نے ایک انٹریو میں اس بات کا اعلان کیا ہےکہ ملک میں کثیر الثقافتی معاشرہ ناکام ہو گیا ہے۔ اس بیان کے بعد وہ ان عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل ہوگئے، جنہوں نے کثیر الثقافتی معاشرے کی مخالفت کی ہے.

default

جمعرات کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں میزبان ممالک کی جانب سے دیگر ثقافتوں اور مذاہب کے تارک وطن گروہوں کو معاشرے میں خوش آمدید کہنے اور ان کی پرورش کی پالیسی کے حوالےسے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا، " میرا جواب ہاں میں ہے ، ہاں یہ ناکام ہے"۔ وہ مزید کہتے ہیں، " ظاہر ہے ہم سب کو ایک دوسرے کےثقافت کا احترام کرنا چاہئے لیکن ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں چاہتے جہاں مختلف سماجی گروہ بیک وقت موجود ہوں۔"

Angel Merkel und Nicolas Sarkozy bei der CeBit 2008

فرانسیسی صدر ان رہنماوں کی فہرست میں آگئے ہیں جنہوں نے کثیر الثقافت معاشرے کی مخالفت کی ہے

ان کے مطابق اگر کوئی فرانس آنا چاہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے ایک یک جہتی معاشرے یعنی ایک قومی کمیونٹی میں گھل مل کر رہنا ہو گا لیکن اگر کسی کو یہ قبول نہیں ہے تو یہ ملک اسے قبول نہیں کرے گا۔

اس انٹرویو میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر نکولا سارکوزی نے مزید کہا کہ فرانسیسی معاشرہ اپنے طرز زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ بجائے اپنے ملک کی شناخت کا خیال کرنے کے ہم اپنےملک میں آنے والوں کی شناخت کے حوالے سے بہت فکر مند رہتے ہیں۔

Kopftuch Demonstration in Indonesien

فرانس میں حجاب پر پابندی ہے جس کے خلاف مسلمانوں نے کافی احتجاج کیا

فرانسیسی صدر نے اپنے اس انٹریو میں یہ بھی کہا ہے کہ مسلم ہم وطنوں کواس بات کی تو اجازت ہے کہ وہ عام شہریوں کی طرح اپنے مذہب پر عمل کر یں تاہم فرانس یہ بالکل نہیں چاہتا کہ یہ لوگ ملک کی سڑکوں پر کھڑے ہوکر اپنی عبادات کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس فرانس کے انتہائی دائیں بازو کے ایک رہنما Marine Le Pen نے مسجدوں میں گنجائش کی کمی کےباعث مسلمانوں کے مسجد سے باہر سڑکوں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے طریقے کو نازی طریقہ کار سے تشبیہ دی تھی، جس پر انہیں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون، جرمن چانسلر انگیلا میرکل، آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم جان ہاورڈ اور اسپین کے سابق وزیر اعظم ازنار نے بھی حالیہ دنوں میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کے ممالک کی کثیر الثقافتی پالیساں تارک وطن مہاجرین کو معاشرے میں ضم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عدنان اسحق

DW.COM