1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فرانس میں برقع پرممکنہ پابندی: اپوزیشن کے تحفظات

فرانسیسی اپوزیشن رہنماؤں نے برقع پر پابندی لگانے کے ممکنہ قانون پر تحفظات ظاہر کئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ خواتین کے برقع پہننے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔

default

اپوزیشن سوشلسٹ رہنماؤں کی طرف سے برقع پر پابندی کے خلاف بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رواں ماہ ہی ملکی پارلیمان میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ فرانس میں خواتین کے برقع پہننے پر پابندی عائد کی جائے یا نہیں۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فرانس میں برقع کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سارکوزی کے اس بیان کے بعد ایک پارلیمانی کمیٹی برقع پر ممکنہ پابندی لگائے جانے کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کر رہی ہے جو اسی ماہ کے اواخر میں پارلیمان کے سامنے پیش کردی جائے گی۔

Sarkozy zu Besuch in Tunesien gemeinsam mit seiner Frau Carla Bruni-Sarkozy

فرانسیسی صدرنکولا سارکوزی اپنی اہلیہ کارلا برونی کے ہمراہ

فرانسیسی حکام نے چھ ماہ قبل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جومعاشرتی اور بشریاتی حوالوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرانس میں برقع پہننے کے رحجانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس رپورٹ میں ہی تجویز کیا جائے گا کہ آیا فرانس میں برقع پر قانونی طور پر پابندی عائد کی جائے یانہیں۔

سوشلسٹ رہنما اگرچہ خواتین کے برقع پہننے کے حق میں نہیں ہے تاہم ان کا کہنا ہےکہ برقع پر پابندی لگانا بھی مناسب نہیں۔ سوشلسٹ پارٹی کے ترجمان Benoit Hamon نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا: ’’ہم مکمل طور پر خواتین کے برقع پہننے کی مخالفت کرتے ہیں۔ برقع عورت کے لئے ایک قید ہے اور اس چیز کی فرانس میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ لیکن انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایڈہاک قانون بنانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

دوسری طرف حکمران سیاسی پارٹی کے پارلیمانی رہنما Jean-Francois Cope نے کہا ہے کہ وہ اسی ماہ کے اواخر میں عوامی مقامات پر برقع پہننے کے خلاف ایک قانون تجویز کریں گے تاکہ فرانس کو ’انتہا پسندوں‘ سے بچایا جا سکے۔

فرانس کی دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کئی سیاستدانوں نے خبردار کیا ہے کہ برقع پر مکمل طور پر قانونی پابندی کا اطلاق بے حد مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کو یورپی انسانی حقوق کی عدالت میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔

Demonstration in Berlin gegen Kopftuch Verbot in Frankreich

فرانس کے سرکاری اسکولوں میں اسکارف پہننے پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے

خبر رساں ادارےAFP نے ، دائیں بازو کی حکمران سیاسی پارٹی UMP کے اراکین پارلیمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر برقع کے خلاف ممکنہ قانون سازی کی مخالفت نہیں کریں گے۔

فرانسیسی وزرات داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق فرانس میں کل 1,900 خواتین برقع پہنتی ہیں جن میں میں نصف سے زائد خواتین پیرس ریجن میں رہتی ہیں۔

فرانسیسی وزیرداخلہ Brice Hortefeux نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سرکاری عمارات اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسی عوامی جگہوں پر برقع پہننے پر پابندی عائد کر دینی چاہئے۔

چھ ملین مسلمان آبادی رکھنے والے یورپی ملک فرانس میں برقع پر پابندی کا ایک مقصد سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا بتایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی حکام نےسن 2004ء میں سرکاری اسکولوں میں اسکارف پہننے اور توجہ کا باعث بننے والی دیگر مذہبی علامات کے استعمال پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM