1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانس میں برقعے پر پابندی کا بل پارلیمان میں

فرانس میں برقعے پر پابندی کا بل اگلے ہفتے پارلیمان میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس بل کے پاس ہونے کی صورت میں فرانس بھر میں مکمل طور پر چہرہ چھپانے والی خواتین کو جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

default

دوسرے یورپی ممالک کی نسبت فرانس میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ برقعے پر پابندی کے بل کے تحت اس عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا جائےگا۔ اس طرح کسی بھی عوامی مقام پر چہرہ چھپانے والی خواتین پر 150 یورو جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی برقعے کو پہلے ہی ’خواتین کی توہین‘ قرار دے چکے ہیں۔

Flash-Galerie Verschleierungsdebatte

فرانس میں چہرے کا پردہ کرنے والی خواتین کی تعداد تقریبا دو ہزار ہے

اس حوالے سے فرانسیسی پارلیمان میں منگل کے روز بحث ہو گی۔ اس بل کے مجوزہ مسودے کی تیاری کا عمل گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس بل کی منظوری کے باوجود فرانسیسی آئینی عدالت اسے کالعدم بھی قرار دے سکتی ہیں۔

فرانس میں مسلم رہنماؤں کے مطابق اس بل سے وہاں بسنے والے پانچ یا چھ ملین مسلمانوں کے حقوق کو ضرب پہنچے گی۔

اس بل سے قبل تناؤ کی کیفیت میں کمی کے لئے فرانسیسی وزیراعظم Francois Fillon نے گزشہ ہفتے پیرس میں ایک مسجد کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر مسلمانوں سے ہم آہنگی کے مظاہرے کے لئےانہوں نے مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی اور وہاں انہوں نے کھجوریں کھائیں اور چائے پی۔

Flash-Galerie Verschleierungsdebatte

اس بل کی منظوری کے بعد چہرہ چھپانا غیر قانونی ہو جائے گا

اس موقع پر انہوں نے کہا : ’’ایسے مسلمان جو چہرے کو چھپانے کے حق میں ہیں، اصل میں اسلام کو یرغمال بنانے کی کوشش کرنے والے لوگ ہیں۔ اس طرح وہ اسلام کا ایک تاریک اور سخت چہرہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں چہرے کا مکمل پردہ کرنے والی خواتین کی مجموعی تعداد لگ بھگ 2000 ہے۔ پارلیمان سے منظوری کے بعد بل حتمی توثیق کے لئے رواں برس ستمبر میں منظوری کے لئے سینٹ میں جائے گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM