1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس میں اصلاحات کا قانون، حمتی منظوری آج متوقع

فرانس میں پینشن اصلاحات کے خلاف مظاہروں کی شدت کم ہو رہی ہے جبکہ بند پڑی آئل ریفائنریاں بھی آہستہ آہستہ کھلنے لگی ہیں۔ دوسری طرف بدھ کو ایوان زیریں میں اس اصلاحاتی بل کی باقاعدہ منظوری بھی متوقع ہے۔

default

فرانس میں مظاہرین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے

منگل کو فرانس کی سینیٹ نے صدر نکولا سارکوزی کے حمایت یافتہ اس متنازعہ بل کے مسودے کوحتمی منظوری دے دی۔ اب فرانسیسی ایوان زیریں میں اس قانون کو باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد سارکوزی اپنے دستخط ثبت کر کے اسے قانون کا درجہ دے دیں گے۔

Frankreich Lyon Ausschreitungen

فرانسیسی شہر Lyon میں نوجوان مظاہرین

دریں اثناء اس مجوزہ قانون کے خلاف بارہ اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہرے بھی تھمنے لگے ہیں جبکہ کئی یونین رہنماؤں نے کہا ہے کہ لوگ اب واپس اپنے اپنے کاموں کی طرف لوٹ رہے ہیں تاہم کچھ یونین لیڈروں نےاس بل کے خلاف مظاہرے جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ان مظاہروں اور ہڑتالوں کے نتیجے میں ملک کو تین بلین یورو کا نقصان ہوا ہے۔

پینشن اصلاحات کے اس بل میں ریٹائر منٹ کی عمر ساٹھ کے بجائے باسٹھ جبکہ مکمل پینشن کی عمر پینسٹھ سے سڑسٹھ برس تجویز کی گئی ہیں۔ اس اصلاحاتی بل کے ماسٹر مائنڈ لیبر منسٹر Eric Woerth نے سینیٹ میں اس کی حتمی منظوری پر کہا،’ یہ ایک تاریخ ساز ووٹنگ تھی۔‘

منگل کو جب فرانسیسی سینیٹ میں اس کی حتمی توثیق کی گئی تو اس وقت سینیٹ کی عمارت کے باہر صرف ایک ہزار مظاہرین ہی جمع ہوئے۔ مظاہرین کا تاہم کہنا ہے کہ اب وہ احتجاج کی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اس اصلاحاتی قانون میں ترامیم کا تقاضہ کریں گے۔ مرکزی مزدور یونین سی جی ٹی کے سربراہ Bernard Thibault نے کہا ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، ’ آنے والے دنوں میں جو کچھ بھی ہو، ہم نے جو مطالبہ کیا ہے، وہ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کی صورت میں تبدیلی ہوئی ہے۔‘

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی انتظامیہ اپنے مؤقف پر برقرار ہے کہ پینشن نظام میں مجوزہ تبدیلیاں ضرور لائی جائیں گی تاہم ان مظاہروں کے بعد وزیر خزانہ Christine Lagarde نے نوجوانوں کی ملازمتوں کے مسئلے پر مذاکرات کرنے کی حامی بھری ہے۔ خاتون وزیر خزانہ نے منگل کو ایک ریڈیو کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ ان ہڑتالوں سے جو مالی نقصان ہوا ہے ، اس سے ملکی معیشت کی نمو میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اگرچہ فرانس میں کئی مقامات پر پرتشدد مظاہروں کا زور ٹوٹتا جا رہا ہے تاہم ابھی تک ملک میں پیٹرول کی قلت نمایاں ہے۔ وزیر داخلہ Brice Hortefeux نے بتایا ہے کہ ملک کی بارہ بڑی آئل ریفائنریوں میں سے پانچ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے اور جلد ہی پیٹرول کی قلت پر قابو پا لیا جائے گا۔

Frankreich Protest Streik Blockade Rentenreform Sarkozy Paris Raffinerie Flash-Galerie

حکومت کے مطابق ملک کی پانچ آئل ریفائنریوں پر پولیس نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں لوگوں کے بوڑھے ہونے کی شرح دیکھتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال تک نہیں رکھی جا سکتی تاہم دوسری طرف اپوزیشن اس غیر مقبول قانون کو سیاسی طور پر استعمال کرنے لگی ہے۔ فرانس میں سن 2012ء میں صدارتی انتخابات منعقد کئے جائیں گے، جن میں نکولا سارکوزی کے دوسری مدت صدرات کے لئے منتخب ہونے پر اب کچھ سوالیہ نشان ابھر آئیں ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM