1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانس ميں نقاب پر پابندی: مسلمانوں کا ردعمل

فرانس ميں کل رات سينيٹ نے ايک قانون منظور کر ليا جس کے تحت سرعام چہرے کو نقاب سے ڈھانپنا ممنوع قرار دے ديا گيا ہے۔ اب فرانسيسی آئينی کونسل کے ججوں کو اس کی منظوری ديناہے۔

default

فرانس ميں برقعے ميں ملبوس مسلم خواتين

فرانس يورپ کا وہ پہلا ملک ہے جس نے منظر عام پر عورتوں کے اپنے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپنے يا نقاب پہننے کو قابل سزا قرار ديا ہے۔ 15 ستمبر سن 2010 کی رات يعنی گذشتہ شب فرانسيسی سينيٹ نے اس قانون کی منظوری دے دی۔ کئی حلقوں کی طرف سے يہ کہا جارہا ہے کہ يہ ايک درست فيصلہ ہے اور اس کا مذہبی آزادی سے کوئی تعلق نہيں کيونکہ برقعہ صرف معاشرتی انضمام ميں رکاوٹ بن رہا ہے۔اُن کا يہ بھی کہنا ہے کہ برقعہ ايک روايتی حربہ ہے جس کا مقصد خواتين سے اُن کی شخصيت اور خود مختاری چھيننا ہے۔

يورپ کے بعض دوسرے ممالک ميں بھی نقاب يا برقعہ پر پابندی کے لئے قوانين زير غور ہيں۔ بيلجيم ميں اس قسم کا قانون تياری کے مراحل سے گذر رہا ہے۔ ڈنمارک ميں سرکاری اداروں ميں نقاب پہننے سے روکا جا سکتا ہے۔ ہالينڈ،سوئٹزرلينڈ اور اسپين ميں نقاب پر پابندی زير بحث ہے۔ اٹلی ميں نقاب پہننے پر سن 1975 ہی سے پابندی ہے۔ خواتين کے نقاب يا برقعہ پہننے کے مخالفين کا کہنا ہے کہ يہ خاص طور پر خواتين کے حقوق کا معاملہ ہے اور اس کا اسلام دشمنی سے کوئی تعلق نہيں ہے۔

تاہم برطانيہ ميں صورتحال اس سے قطعی مختلف ہے جہاں کی قدامت پسند لبرل مخلوط حکومت برقعے پر پابندی لگانے سے بالکل انکار کررہی ہے۔

يورپ ميں ايک عام خيال يہ پايا جاتا ہے کہ جو مسلمان خواتين نقاب پہنتی ہيں يا بالوں کو ڈھانپتی ہيں وہ اپنی مرضی سے ايسا نہيں کرتيں بلکہ اُن کے والدين يا شوہر اُنہيں اس پر مجبور کرتے ہيں۔

Frankreich Muslime Streit um Kopftuchverbot

فرانس ميں ايک برقعہ پوش مراکشی خاتون

اُدھر ايشيا ميں مسلم رہنماؤں نے آج اس سے خبردار کيا کہ فرانس ميں اس قانون کی منظوری سے، جس کا جائزہ اب فرانسيسی آئينی کونسل کو لينا ہوگا، دہشت گردی کو شہہ مل سکتی ہے۔ دنيا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونيشيا کی علماء کونسل کے چيرمين آميدھان نے کہا کہ اگر فرانسيسی پارليمنٹ انسانی حقوق کی چيمپين بننا چاہتی ہے تو اُسے عورتوں کو نقاب پہننے کی عام اجازت دينا چاہئے اور اگر وہ سلامتی اور تحفظ کے خدشات کی وجہ سے برقعے پر پابندی لگا رہی ہے تو سوال يہ ہے کہ کسی خاتون کے برقعہ پہننے سے سيکيورٹی کا کيا مسئلہ پيدا ہوسکتا ہے۔

Halal Fastfood Quick Burger Fast Food Restaurant in Roubaix, Frankreich

فرانس کی ، صرف حلال فوڈ فروخت کرنے والی سات دکانوں ميں سے ايک

ملائيشيا کی اسلامک پارٹی پی اے ايس کے نائب صدر نصر الدين کا کہنا ہے کہ فرانس کے اس فيصلے سے اُن بہت سی تنظيموں کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے جو اسلامی اور مغربی دنيا کے درميان خليج کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اس پابندی سے انفرادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد کے امام احمد بخاری نے اس قانون کی سختی سے مذمت کی ہے اور اسے اسلام مخالف قرار ديا ہے۔ بخاری نے، جن کے پيرؤں کی تعداد بھارت ميں لاکھوں تک پہنچتی ہے، يہ بھی کہا کہ عيسائی ننوں کا لباس برقعے سے بہت زيادہ مختلف نہيں ہوتا ہے اس لئے صاف ظاہر ہے کہ فرانسيسی حکومت اسلام اور ملک ميں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف ہے۔ اُنہوں نے فرانس کی آئينی عدالت کے ججوں سے اپيل کی کہ وہ برقعے پر پابندی کے قانون کو نا منظور کرديں۔

فرانس ميں برقعہ پہننے والی مسلمان خواتين کی تعداد بہت کم ہے۔ ان ميں نو مسلم فرانسينی خواتين بھی شامل ہيں۔ برطانيہ ميں برقعہ اور نقاب پہننے والی مسلمان کی خواتين کی تعداد فرانس سے کہيں زيادہ اور يورپ ميں سب سے زيادہ ہے۔