1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس: صدر بشار الاسد کے چچا زیر تفتیش

فرانس میں شامی صدر بشارالاسد کے چچا کے خلاف ٹیکس فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تیس برس پہلے وہ خالی ہاتھ فرانس آئے تھے اور اب ان کی ملکیت میں چونسٹھ ملین پاؤنڈ ہیں۔

آج منگل 28 جون کو فرانسیسی وکلائے استغاثہ نے وہ تمام معلومات عام کر دی ہیں، جو گزشتہ ایک برس کی تحقیقات کے دوران جمع کی گئی ہیں۔ ان میں رفعت الاسد کی تمام مالی معاملات کی تفصیلات درج ہیں۔

ستتر سالہ رفعت الاسد نے اپنے بھائی اور اس وقت کے شامی صدر حافظ الاسد کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد وہ یورپ میں جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق رفعت الاسد گزشتہ تیس برسوں سے پیرس میں ایک شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے نہ صرف پیرس بلکہ لندن اور اسپین کے جنوبی شہر ماربیا میں بھی گھر ہیں۔

فرانسیسی کسٹم حکام کی ایک رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں رفعت الاسد کے خاندان کے اثاثے تقریباﹰ چونسٹھ ملین پاؤنڈ کے قریب تھے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ان رقوم کی ترسیل وغیرہ لکسمبرگ کی ایک تجارتی ویب سائٹ کے ذریعے کی جاتی تھی۔

رفعت الاسد نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے فرانس میں غیرقانونی طریقے سے اثاثے بنائے ہیں۔ تحقیقات سے متعلق معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ رفعت الاسد نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ جب انہوں نے شام چھوڑا تھا تو وہ خالی ہاتھ آئے تھے۔ رفعت الاسد نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ وہ تو اکثر اوقات اپنی تنخواہ بھی غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔

رفعت الاسد کا مزید کہنا تھا، ’’ یہ اس وقت کے فرانسیسی صدر متراں تھے، جنہوں نے مجھے فرانس آنے کے لیے کہا اور وہ بہت ہی مہربان صدر تھے۔‘‘

ذرائع کے مطابق الاسد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں نو جون کو تمام تر تفتیشی مواد فرانس کے مالیاتی امور کے ایک جج کے سامنے پیش کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سے رفعت الاسد کے فرانس چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب انہیں صرف علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت ہے۔

سن دو ہزار تیرہ میں فرانس کی دو اینٹی کرپشن ایسوسی ایشنز نے رفعت الاسد کے خلاف شکایات درج کروائی تھیں۔