1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس: صدارتی امیدوار مارین لے پین کی پارلیمانی مامونیت ختم

یورپی پارلیمان نے فرانسیسی صدارتی امیدوار مارین لے پین کو حاصل مامونیت کے خاتمے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔

یورپی پارلیمان کے ارکان نے اپنی ایک ساتھی رکن اور فرانسیسی صدارتی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی خاتون امیدوار لے پین کے خلاف تفتیش کی اجازت دیتے ہوئے انہیں حاصل پارلیمانی مامونیت کو ختم کر دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق فرانس میں آئندہ صدارتی الیکشن کے لیے انتہائی دائیں بازو کی قوم پسند خاتون امیدوار اور یورپی پارلیمان کی رکن مارین لے پین اس قانونی تحفظ سے محروم ہو گئی ہیں، جس کے تحت اب تک ان کے خلاف ایک یورپی رکن پارلیمان کے طور پر کوئی قانونی یا عدالتی کارروائی نہیں کی جا سکتی تھی۔

اس سلسلے میں یورپی پارلیمان کی قانونی امور کی کمیٹی کے بعد اب اکثریتی ارکان نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ پیرس میں فرانسیسی محکمہء انصاف کے لیے یہ ممکن بنا دیا جائے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی اس سخت گیر خاتون سیاستدان کے خلاف تفتیش کر سکے۔

اے ایف پی کے مطابق مارین لے پین کے خلاف اس قانونی چھان بین کی وجہ ان کی طرف سے ٹوئٹر پر شائع کی جانے والی بہت خوفناک تصویریں بنیں۔ انتہائی حد تک تشدد کی مظہر ان تصاویر میں ایسے افراد کو دکھایا گیا تھا، جو دہشت گرد تنظیم 'اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں کے مظالم کا نشانہ بنے۔

یورپی پارلیمانی اہلکاروں کے مطابق مارین لے پین نے ٹوئٹر پر 'اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے انتہائی خوفناک مظالم کی جو تصاویر پوسٹ کیں، وہ انہیں شائع نہیں کرنا چاہیے تھیں۔ ان تصاویر میں سے ایک داعش کی طرف سے اغوا کردہ امریکی صحافی جیمز فولی کی سربریدہ لاش کی ایک ایسی تصویر بھی تھی، جو جہادیوں کی طرف سے ان کا سرقلم کیے جانے کے بعد اتاری گئی تھی۔

فرانسیسی دفتر استغاثہ نے فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی قوم پسند جماعت نیشنل فرنٹ کی اس خاتون سربراہ کے خلاف اپنی چھان بین کا آغاز دسمبر 2015ء میں کیا تھا، اور اس کا سبب لے پین کی شائع کردہ داعش کے خونریز مظالم کا نشانہ بننے والے افراد کی یہی تصاویر تھیں۔

اس چھان بین کی روشنی میں پیرس میں ملکی پراسیکیوٹرز نے یورپی پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ لے پین کو یورپی پارلیمان کی ایک منتخب رکن کے طور پر حاصل کسی بھی قانونی کارروائی کے خلاف تحفظ ختم کیا جائے۔

مارین لے پین، جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر فرانس اور یورپ میں مہاجرین اور تارکین وطن پر شدید تنقید اور اپنے اسلام مخالف بیانات کی وجہ سے بھی اکثر میڈیا میں سرخیوں کا موضوع رہتی ہیں، اپنے خلاف اس یورپی پارلیمانی پیش رفت کے ردعمل میں کہا، ''اس اقدام سے فرانسیسی شہریوں کو پتہ چل گیا ہے کہ یورپی یونین کیا ہے؟ یورپی پارلیمان کیا ہے؟ یہ سب کچھ ایک ایسے نظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ مجھے فرانسیسی صدارتی انتخابات میں ملکی عوام کی نمائندہ امیدوار کے طور پر روک دیا جائے۔‘‘

فرانس میں اب مارین لے پین کے خلاف اسٹیٹ پراسیکیوٹرز ممکنہ طور پر مقدمے کی کارروائی شروع کر سکیں گے۔

 

ملتے جلتے مندرجات