1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانس: دوسرے مرحلے میں قوم پرستوں کے ہاتھ کچھ نہ آیا

فرانس کے علاقائی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سبقت لے جانے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’نیشنل فرنٹ‘ (ایف این) دوسرے مرحلے میں ایک بھی علاقے میں جیت نہیں سکی۔ عوام نے روایتی جماعتوں پر اپنے بھروسے کا اظہار کیا ہے۔

فرانس میں علاقائی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مارین لے پین کی جماعت نیشنل فرنٹ’ ایف این‘ کی جانب سے زبردست خوشی کا اظہار کیا گیا تھا اور یہ جماعت دوسرے مرحلے میں بھی ایسے ہی نتیجے کی امید کر رہی تھی۔ تاہم دوسرا مرحلہ نیشنل فرنٹ کے حامیوں کے چہروں پر اداسی بکھیر گیا۔ تاہم لے پین نے کہا ہے کہ اس نتیجے کے بعد بھی وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ ’’ہمیں کوئی روک نہیں سکتا‘‘۔ فرانس میں 2017ء میں صدارتی انتخابت منعقد ہوں گے اور ’ایف این‘ کو امید تھی کہ یہ علاقائی انتخابات ان کی لیڈر مارین لے پین کی مقبولیت میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے۔

گو کہ نیشنل فرنٹ کو اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں تاہم اس کے باوجود وہ سابق صدر نکولا سارکوزی کی قدامت پسند پارٹی کو ملک کے شمالی حصے میں شکست نہیں دے سکی۔

اس موقع پر صدر فرانسوا اولانڈ کی سوشلسٹ پارٹی نے انتخابات کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے سے قبل ہی اس عمل میں شامل نہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ نیشنل فرنٹ کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 6.8 ملین بنتی ہے۔ لےپین کی طرح ان کی چھبیس سالہ بھتیجی ماریون لے پین بھی اپنے حلقے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ حالانکہ گزشتہ ہفتے ہونے والے پہلے مرحلے میں انہیں انہی علاقے میں واضح اکثریت حاصل تھی۔

چھ دسمبرکو تیرہ میں سے چھ علاقوں میں نیشنل فرنٹ کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ ملک کی کمزور ہوتی ہوئی اقتصادی صورتحال تھی جبکہ تیرہ نومبر کو پیرس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والے صورتحال کا فائدہ بھی اس پارٹی کو پہنچا۔ تاہم اب ان حملوں کے ٹھیک ایک ماہ بعد ووٹرز کے رجحان میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ پہلے مرحلے میں پچاس فیصد عوام نے شرکت کی تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کا تناسب 58 فیصد رہا۔ حکمران سوشلسٹ پارٹی پانچ علاقوں میں جبکہ نکولا سارکوزی کے دائیں بازو کے مرکزی اتحاد نے سات علاقوں میں اور قوم پرست ایک علاقے میں کامیاب رہے ہیں۔ فرانس کو تیرہ مختلف علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تاہم ان انتخابات میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ پیرس ریجن سترہ سال بعد سوشلسٹوں کے ہاتھوں سے نکل کر دائیں بازو کے اتحاد کے پاس چلا گیا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات