فرانس: ’جنگل‘ سے چھ بچے برطانیہ روانہ | مہاجرین کا بحران | DW | 13.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرانس: ’جنگل‘ سے چھ بچے برطانیہ روانہ

فرانس کے ساحلی شہر کَیلے کے قریب واقع مہاجر کیمپ ’جنگل‘ سے چھ بچوں کو برطانیہ روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام مہاجر بستی میں مقیم سینکڑوں تنہا بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے کی ابتدائی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔

Frankreich Flüchtlingskinder in Calais (Getty Images/M. Turner)

برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے بچوں کے چھوٹے گروپ ہفتہ وار بنیاد پر برطانیہ آ رہے ہیں

 

برطانیہ جانے والے ان چھ خوش اور مطمئن بچوں میں ایک شامی اور پانچ افغان بچے شامل ہیں۔ ان بچوں کو آج بروزِ جمعرات کَیلے میں یورو سٹار ٹرین پر سوار کرانے سے قبل مقامی انتظامیہ کے ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا۔

برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے بچوں کے چھوٹے گروپ ہفتہ وار بنیاد پر برطانیہ آ رہے ہیں۔

جیسے جیسے جنگل نامی مہاجر بستی کو ختم کرنے کا وقت قریب آرہا ہے، کیمپ میں مقیم ایسے بچوں کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن کے سر پرست اُن کے ہمراہ نہیں ہیں۔ مہاجرین کے لیے کام کرنے والے ایک امدادی ادارے کے مطابق جنگل مہاجر بستی میں قریب تیرہ سو بچے ایسے ہیں جو والدین یا کسی سر پرست کے بغیر رہ رہے ہیں۔

 ایک اندازے کے مطابق فی الوقت اس کیمپ میں رہائش پذیر مہاجرین کی تعداد نو ہزار کے قریب ہے۔ فرانس کے دباؤ کے تحت برطانوی حکومت  نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ چند روز کے اندر فرانس کے جنگل کیمپ میں مقیم اُن سینکڑوں بچوں کو برطانیہ منتقل کرنے کے عمل کا آغاز کرے گی جن کے رشتہ دار برطانیہ میں ہیں۔ تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اُن اکیلے بچوں کا کیا ہو گا جن کے خاندان برطانیہ میں موجود نہیں ہیں۔

Flüchtlingslager in Calais (DW)

مہاجر بستی میں نا بالغ افراد کی تعداد تیرہ سو کے قریب ہے جن میں سے چالیس فی صد وہ بچے ہیں جن کے خاندان پہلے سے ہی برطانیہ میں ہیں

 آج برطانیہ روانہ ہونے والے ایک افغان بچے سعدی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’ آج میں بہت خوش ہوں۔ برطانیہ پہنچنا میرا خواب تھا۔ لندن میں میرا خاندان ہے، میری بہن ہے۔ مجھے جانا ہی تھا۔ اس کا  کوئی دوسرا حل نہیں تھا۔‘‘ دیگر بچوں میں چودہ سالہ محمد فضل ہانی بھی ہے جو برطانیہ پہنچنے کی امید میں کیمپ میں قائم ایک عارضی ریستوران میں کام کیا کرتا تھا۔

اس سے قبل ایک امدادی گروپ نے رواں ہفتے پیر اور منگل کے روز جنگل کیمپ میں گنتی کے بعد خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا تھا کہ مہاجر بستی میں نا بالغ افراد کی تعداد تیرہ سو کے قریب ہے جن میں سے چالیس فی صد وہ بچے ہیں جن کے خاندان پہلے سے ہی برطانیہ میں ہیں۔

دوسری جانب فرانس کے گیارہ فلاحی اداروں نے’جنگل‘ نامی مہاجر کیمپ کا انہدام رکوانے کے لیے فوری عدالتی حکم نامہ جاری کروانے کی غرض سے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے رواں برس کے آخر تک کَیلے کی مہاجر بستی کو ختم کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں اب تک ہزاروں تارکینِ وطن کو فرانس کے مختلف مراکز میں منتقل  کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے اور نئے مراکز پر ان کے سیاسی پناہ کے مقدمات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔