1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانسیسی پولیس افسر بیوی سمیت قتل: ’حملہ ہم نے کیا،‘ داعش

فرانسیسی پولیس کے ایک افسر کو اُن کے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا ہے۔ پیر کی شام ہونے والی قتل کی اِس واردات کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔

عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے فرانسیسی پولیس افسر کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عسکریت پسند تنظیم کی نیوز ایجنسی نے قاتل کو اپنی تنظیم کا رکن بتایا ہے۔ عماق نیوز ایجنسی کے مطابق ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ایک جنگجُو نے فرانسیسی شہر لے میورو (Les Mureaux) کے پولیس اسٹیشن کے نائب سربراہ کو اُس کی بیوی کے ہمراہ ہلاک کیا ہے۔ عماق کی ویب سائٹ پر بھی یہ خبر شائع کی گئی ہے۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق حملہ آور نے چاقو کے پے در پے وار کر کے بیالیس برس کے سابقہ فوجی افسر کو قتل کیا۔ اُس نے کُل نو مرتبہ پولیس افسر کے پیٹ میں چاقو سے وار کیے۔ بعد میں وہ لاش گھسیٹ کر اندر لے گیا اور اُس کی بیوی اور تین سالہ بچے کو یرغمال بنا لیا۔ پولیس افسر کی خاتون پارٹنر کی لاش مکان کے اندر سے ملی ہے۔

Frankreich Polizist bei Paris ermordet

فرانسیسی پولیس افسر کے قاتل کو پولیس نے سرنڈر نہ کرنے پر ہلاک کر دیا

حملہ آور نے دوہرے قتل کی واردات کے بعد فرانسیسی دارالحکومت سے پچاس کلومیٹر کی دوری پر واقع مقام ماناویل (Magnanville) نامی شہر کے ایک مکان میں خود کو محصور کر رکھا تھا۔ یہ شہر قتل کی واردات کے مقام لے میورو سے بیس کلو میٹر دور ہے۔ لے میور کے پولیس اسٹیشن کا سربراہ ہی جنگجو کے ہاتھوں قتل ہوا ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ نے مقتول پولیس افسر کا نام اور دوسرے کوائف جاری نہیں کیے ہیں۔

پولیس نے اُس کی نشاندہی کرنے کے بعد اُسے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن گفتگو کا عمل نامکمل رہنے کے بعد فرانسیسی پولیس کے ایک نشانچی نے اُس کو نشانہ بنا کرک ہلاک کر دیا۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات بے سود رہنے کے بعد حملہ آور کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اُس کو گرفتار کرنے کے لیے فرانسیسی پولیس کے کمانڈوز نے اُس مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔

ایک عدالتی ذرائع کے مطابق دفتر استغاثہ کے ایک یونٹ کو اِس حملہ آور کے ساتھ گفتگو کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ بعض دوسرے فرانسیسی پولیس اور عدالتی ذرائع نے حملہ آور کی شناخت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ حملہ آور پولیس اور سکیورٹی ذرائع کی نظر میں تھا کیونکہ اِسے سن 2013ء میں پاکستان کے عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کے جرم میں تین برس کی سزا سنائی گئی تھی۔

DW.COM